- الإعلانات -

دوستوں کے ہاتھوں نوجوان کا قتل، کوئی تاحال گرفتارنہ ہوسکا

پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی، آئی جی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

’’میرے لعل کو بہت مارا، اتنا مارا کہ مار ہی ڈالا‘‘،یہ ہے مقتول علی فرحان کی والدہ کا دکھ، انہیں یقین ہی نہیں آرہا کہ جس بیٹے کو دیکھ کر جیتی تھیں وہ مر گیا،انہیں یہ سوچ بھی بے قرار کررہی ہے کہ بیٹے کے جن دوستوں کی خاطر داری وہ سگی ماں کی طرح کرتی تھیں وہ اتنے سفاک اور بے مروت ہیں کہ چند لاکھ کیلئے فرحان کی جان لے لیں گے۔

دوسری طرف آئی جی سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی سی آئی اے کو انکوائری کی ہدایت کی اور رپورٹ طلب کرلی ہے۔

پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے اورنگی ٹاؤن، شاہ فیصل کالونی، ملیر اور دیگر مقامات پر چھاپے مارے، لیکن ملزمان اپنے گھروں کو تالے لگا کر فرار ہوگئے ہیں،ان کے موبائل فون بھی مسلسل بند جارہے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو موبائل فون کی لوکیشن کے ذریعے ٹریس کیا جارہا ہے، مقتول فرحان کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کام کرتا تھا۔

مقتول نے اپنے 6 دوستوں کے 40لاکھ روپے سے زائد حصص کے کاروبار میں انویسٹ کروائے تاہم نقصان ہونے پر دوستوں نے 27 جولائی کی رات اُسے تشدد کرکے ہلاک کردیا اور گھر سے گاڑی اور قیمتی سامان لے کر فرار ہوگئے۔