- الإعلانات -

ایک شخص مشتعل ہجوم سے پریانتھا کمارا کو بچانےکی تن تنہا کوشش کرتا رہا

درندوں کے ہجوم میں سسکتی انسانیت کو بچانےکی جدوجہد کرنے والا ایک انسان سامنے آگیا۔

گزشتہ روز سانحہ سیالکوٹ میں غیرمسلم سری لنکن شہری پریانتھا کمارا وحشت اور درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھاجاسکتا ہےکہ وحشی ہجوم کے درمیان ایک بے بس شخص لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑتا رہا اور پریانتھا کمارا کی زندگی کی بھیک مانگتا رہا، لیکن بے حس ظالم ہجوم میں سے کسی نے ایک نہ سنی، الٹا اسی کو دھکے مارےگئے، دائیں بائیں گھسیٹا گیا۔
پولیس نے دیگر ملزمان کے علاوہ دونوں افرادکو بھی اپنی تحویل میں لے رکھا ہے، دونوں افراد کی شناخت کے حوالے سے فی الحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

پسِ منظر
خیال رہے کہ گزشتہ روز 3 دسمبر کو اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا تھا، پریانتھا کمارا جان بچانے کے لیے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔

انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے، مار مار کر جان سے ہی لے لی، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لےگئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔