- الإعلانات -

سانحہ کوئٹہ پر ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج

صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں بھی نکالیں۔

بار ایسوسی ایشنز کی اپیل پر عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا گیا۔

واضح رہے کہ 8 اگست کو بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال انور کاسی کو قتل کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی میت کو وکلاء کی بڑی تعداد کوئٹہ کے سول ہسپتال لے کر پہنچی، اس دوران ہسپتال میں خودکش دھماکا کیا گیا جس کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر وکلاء تھے۔

ملک کے متخلف حصوں میں سانحہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی گئی۔

وکلاء نے بڑی تعداد میں مظاہروں میں شرکت کی
ملک بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا، جس سے عدالتی احاطے ویران نظر آئے — فوٹو/ آن لائن
ملک بھر میں وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا، جس سے عدالتی احاطے ویران نظر آئے
کوئٹہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ مختلف علاقوں میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں عام افراد نے بھی شرکت کی — فوٹو/ اے ایف پی
کوئٹہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی نماز جنازہ مختلف علاقوں میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں عام افراد نے بھی شرکت کی —
وکلاء نے احتجاج کے دوران ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ دہشت گردی کے خاتمے پر بھی زور دیا گیا — فوٹو/ اے ایف پی
وکلاء نے احتجاج کے دوران ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ دہشت گردی کے خاتمے پر بھی زور دیا گیا —
احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں وکلاء دہشت گردی کے خلاف ہاتھوں میں بینرز لیے نظر آئے — فوٹو/ اے پی
احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں وکلاء دہشت گردی کے خلاف ہاتھوں میں بینرز لیے نظر آئے —
دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ  بھی ادا کی  گئی — فوٹو/ اے ایف پی
دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی —
وکلاء کے احتتجاجی مظاہروں میں  سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے — فوٹو/ اے پی
وکلاء کے احتتجاجی مظاہروں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے —
دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے دعائیہ اجتماعات بھی ہوئے — فوٹو/ اے پی
دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے دعائیہ اجتماعات بھی ہوئے —