- الإعلانات -

حکومت کا آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کا اعلیٰ ترین عہدہ دینے کا فیصلہ

اسلام آباد(نیوزڈیسک) دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی او ر آپریشن ضرب عضب کو کامیابی کے ساتھ چلانے جیسی خدمات کے صلے میں وزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو فیلڈ مارشل کے اعلیٰ عہدے پر فائز کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔فیلڈ مارشل فوج کا اعلیٰ ترین عہدہ ہے جو تمام جنرل رینکس سے بھی بڑھ کر ہے،عمومی طور پراسے آرمی کا اعلیٰ ترین عہدہ سمجھا جاتا ہے اور آج کی جدید نیا میں اس فائیو سٹار رینک تک محض چند ایک شخصیات ہی پہنچ سکی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایوب خان وہ واحدجنرل ہیں جنہوں نے 1965ٗءمیں خود کو اس اعلیٰ ترین عہدے پر ترقی دی۔
پاکستان ٹوڈے کے مطابق تجربہ کار صحافی عارف نظامی نے بتایا ہے کہ اس بات کا فیصلہ سول قیادت نے اعلیٰ عسکری قیادت کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا ہے۔تاہم یہ فیصلہ اس اصول کے تحت کیا گیا ہے کہ آرمی چیف جنر ل راحیل شریف کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی اورمقررہ وقت پر نئے آرمی چیف کا تقرر کردیا جائے گا۔

نجی ٹی وی 24کے ایک پروگرا م میں گفتگو کرتے ہوئے عارف نظامی نے کہاکہ آرمی چیف شاید کسی دوسری صورت میں اپنی خدمات فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔انہوں نے کہادہشتگردی کے خلاف بھرپوراقدامات پر ممکن ہے ان کی خدمات انسداد دہشت گردی کیلئے حاصل کی جائیں،جیسا کہ ’اینٹی ٹیررازم تسار‘(anti-terrorism tsar)۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہر قانون دان ایس ایم ظفر نے کہا کہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کیلئے آرمی ایکٹ 1952میں کسی بھی قسم کی ترمیم کی ضرورت نہیں پڑے گی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اس عہدے پر ترقی پانے پر آر می چیف کو کون کون سے اختیارات حاصل ہو جائیں گے تو ایس ایم ظفر نے کہا کہ کوئی اختیارات نہیں ہوں گے۔
”یہ جنگوں میں بہترین خدمات سرانجام دینے پر ملنے والا علامتی عہدہ ہے جس میں کوئی اختیارات یا مراعات نہیں ملتیں۔“

پاکستان ٹوڈے کے مطابق وزارت دفاع کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ تجویز سیاسی و عسکری حلقوں میں زیر غور ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف جمہوریت کی مضبوطی اور دہشتگردی کے خلاف نمایاں کارکردگی پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو بہترین صلہ دینا چاہتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق 2014میں ہونے والے ایک دھرنے کا فائدہ اٹھا کر سسٹم ڈی ریل نہ کرنے کے باعث آرمی چیف کے احترام میں بھرپور اضافہ ہوا۔کئی عناصر کی خواہشات کے باوجود جنرل راحیل نے ثابت کیا کہ وہ جمہوریت کو بچانے والے ہیں۔