- الإعلانات -

نااہلی کی درخواستوں پر وزیراعظم کو نوٹس جاری

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں پر وزیرِاعظم، پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور وفاقی وزیر خزانہ سمیت چھ افراد کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

یہ درخواستیں حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے دائر کی تھیں۔

پاناما لیکس میں آف شور کمپنیوں کے حوالے سے آنے والی معلومات کے تناظر میں دائر کی گئی ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف ، وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، اراکین قومی اسمبلی حمزہ شہباز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے اپنے اثاثے چھپائے ہیں اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے اور اُن کی قومی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کی جائے۔

الیکشن کمیشن نے ان افراد سے کہا ہے کہ وہ چھ ستمبر تک اس بارے میں اپنا جواب عدالت میں جمع کروائیں۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان نے بدھ کے روز ان درخواستوں کی سماعت کی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آف شور کمپنیاں وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہیں کیونکہ جس وقت یہ کمپنیاں بنائی گئیں اس وقت ان کے بچے کمسن تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے کاغذات نامزدگی میں ان آف شور کمپنیز کا ذکر نہیں کیا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

سردار لطیف کھوسہ نے وزیر اعظم کی قومی اسمبلی اور سرکاری ٹیلی ویژن پر کی جانے والی تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تقریروں میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ سنہ 2000 کے بعد اُن کے بچوں نے لندن میں جائیدادیں خریدی تھیں جبکہ دستاویزات کے مطابق یہ جائیداد سنہ 1993 اور سنہ 1995 میں خریدی گئی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نہ صرف قتل کے مقدمے میں اشتہاری ہیں بلکہ وہ مختلف بینکوں کے نادہندہ ہیں اس لیے اُنھیں بھی نااہل قرار دیا جائے۔

عدالت نے جب پیپلز پارٹی کے وکیل سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس کوئی تحریری ثبوت موجود ہیں جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو اشتہاری قرار دیا گیا ہو اور اس کے علاوہ وہ مختلف بینکوں نے نادہندہ ہوں تاہم اس بارے میں کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کیے جاسکے۔

حزب مخالف کی ایک اور جماعت پاکستان تحریک انصاف کے وکیل انیس ہاشمی کا کہا تھا کہ شریف برادران نے اپنی جائیداد کے مطابق ٹیکس کے گوشوارے جمع نہیں کروائے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

ادھر پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے ضمانت طلب کی ہے کہ اگر وہ اس بات کی یقین دہانی کروائیں کہ حکومت پانامالیکس سے متعلق ضوابط کار طے کرنے سے متعلق لچک کا مظاہرہ کرے گی تو وہ حکومت کے ساتھ اس معاملے پر مذاکرات کے تیار ہیں۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں کے ایک نمائندہ وفد سے بدھ کے روز قومی اسمبلی کے سپیکر سے ملاقات کی جس میں سردار ایاز صادق نے حزب مخالف کی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ساتھ پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق حکومت سے مذاکرات کریں۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ پارلمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتیں پانامالیکس کی تحقیقات سے متعلق ضوابط کار کے حوالے سے پہلے ہی بہت زیادہ لچک کا مظاہرہ کر چکی ہیں اور اب مزید اس پر لچک نہیں دکھائی جا سکتی۔

اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے پاناما لیکس سے متعلق ضوابط کار سے متعلق جو نکات اُٹھائے گئے ہیں وہی حتمی ہے اب میں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

چوہدری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومتی وزراء نے اس معاملے پر حزب مخالف کی جماعتوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس سلسلے میں جمعرات کو وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا ہے جس میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے حکومت کے خلاف احتجاج اور پانامالیکس پر ضوابط کار طے کرنے کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے پیش کیے گئے مطالبات پر بھی غور ہوگا۔