- الإعلانات -

مودی کے بلوچستان سے متعلق بیان پر عوام سراپا احتجاج

بھارتی وزیراعظم کے بلوچستان سے متعلق بیان پرصوبے کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہرے کیے گئے جس میں ،اسکاؤٹس ، بلدیاتی نمایندوں اور شہریوں نےشرکت کی ۔

چمن میں مشتعل مظاہرین نے پاک افغان سرحد کی جانب مارچ کیا اورباب دوستی پر جانے کی کوشش کی تو سیکیورٹی فورسز نے انھیں روک دیا جس پرقبائلی مظاہرین نے وہیں دھرنا دے دیاجس کے باعث باب دوستی کوآمدروفت کے لیے بند کردیا گیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ دھرنا ختم ہونے پرباب دوستی سے آمدورفت بحال کردی گئی ۔

ادھر ہرنائی، مستونگ،نوشکی،سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جبکہ ڈھاڈر اور بولان میں شٹرڈاون ہڑتال کی جارہی ہے ۔ نصیر آباد میں جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی ، سبی میں مختلف جماعتوں کی طرف سے نکالی جانے والی ریلی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی قومی شاہراہ ٹول پلازہ پر پہنچی جہاں دھرنا دیا گیا ۔

خضدار میں بھی بھارتی وزیر اعظم کےبلوچستان سے متعلق اشتعال انگیز بیان کے خلاف ریلی دو تلوار سے نکالی گئی جو قومی شاہراہ پرختم ہوئی۔ ریلی میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں ،تاجروں اوراقلیتی برادری نے شرکت کی ۔

سرحدی شہر تفتان میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف سیکڑوں افراد نے ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی مین چورنگی پر اختتام پذیر ہوئی ۔