- الإعلانات -

سانحہ کوئٹہ: ملک بھر کے وکلا سراپا احتجاج ،عدالتوں کا بائیکاٹ

سانحہ کوئٹہ کے خلاف وکلا نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے، حملے کے ذمہ داروں کو جلد ازجلد کیفر کردار تک پہنچانے اوروکلا کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

صدر سپریم کورٹ بار نے مشکوک شخص کی تصویر بھی پیش کی ۔ پاکستان بار کونسل کی اپیل پر ملک بھر کی عدالتوں کا بائیکاٹ جاری ہے،سپریم کورٹ بار کے صدر علی ظفر نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ کے سامنے پرامن احتجاج کیا جا رہا ہےاور 8ستمبر سے احتجاجی تحریک چلائیں گے۔

سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے وکلا کے احتجاج سے قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران مشکوک شخص کی 3 تصویریں اور ایک خط دکھاتے ہوئے استفسار کیا کہ مشکوک شخص وکلا کی ریلی کے دوران کیسے پہنچ گیا؟

صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ حکومت نے اب تک کوئی مثبت جواب نہیں دیا،سانحہ کوئٹہ کے بعد وکلا ایک دوسرے کے مزید قریب آگئے ہیں۔تصویر سے متعلق جیونیو ز سے گفتگو میں بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ کوئٹہ سے ایس پی انوسٹی گیشن نے سپریم کورٹ بار کو خط لکھا۔

خط میں ایک شخص کی مختلف زاویوں سے تین تصویریں بھیجی گئیں اورتصویر سے متعلق شناخت کے لیے کہا گیا، بلوچستان کے وکلا نے اس تصویر میں موجود شخص کو بطور وکیل نہیں پہچانا۔۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیرمین فروغ نسیم نے کہا کہ اس سے قبل کہ وکلا تحریک چلائیں ،حکومت وکلا کی داد رسی کرےبیرسٹر فروغ نسیم نےصحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ کیا کوئٹہ واقعہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناکامی نہیں؟

حکومتوں کی بے حسی کے باعث کوئٹہ میں اتنی بڑی تعداد میں وکلاء شہید ہوئے، سپریم کورٹ نے ابھی تک کوئٹہ واقعہ کا ازخود نوٹس لیا اور نہ حکومتوں نے کسی قانون نافذ کرنے والے کسی اہلکار پر ذمے داری عائد کی۔

لاہورمیں وکلاء نےپاکستان بار کونسل کی کال پرسانحہ کوئٹہ کےخلاف ہڑتال کی اورریلی نکالی۔لاہورمیں ہڑتال کےباعث وکلاء صرف ہنگامی نوعیت کے مقدمات میں عدالتوں میں پیش ہوئے، بار ایسوسی ایشنز نےسانحہ کوئٹہ کےخلاف اجلاس بھی منعقد کئے،جن میں متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئےان کی مالی امداداورواقعے کے ذمے داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا،وکلاء کاکہنا تھا کہ سانحہ کوئٹہ وکلاء کو کمزور کرنے کی سازش تھی مگر وکلاء کمزورہونے کی بجائے مزیدمضبوط ہوئے ہیں،بعد میں وکلاء نے سانحہ کوئٹہ کے خلاف ریلی بھی نکالی۔

ملک بھر کی طرح ملتان میں بھی سانحہ کوئٹہ کے ملزمان کی عدم گرفتاری پر ہائی کورٹ بار اور ڈسٹرکٹ بار کئی وکلاء نے عدالتی بائیکاٹ کیا اور بار روم میں جنرل باڈی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ وکلاء برادری نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد از جلد سانحہ کوئٹہ کے ملزمان کو گرفتار کرے اور قرار واقع سزا دے۔