- الإعلانات -

 بھارت نے بلوچستان میں سازش کی تو ہم مداخلت کرینگے:چینی تھنک ٹینک

بین الاقوامی تعلقات کے چینی انسٹیٹیوٹ(CICIR) کے ڈائریکٹر ہوشش ہنگ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ چین، پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائے گا ۔

چینی انسٹیٹیوٹ(CICIR) چین کے طاقتور تھنک ٹینکس میں سے ایک ہے جو ریاستی سلامتی کی وزارت کے ساتھ وابستہ ہے۔

ہو شش ہنگ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے بلوچستان سے متعلق بیان نے چین اور اس کے مفکرین کے لیے تشویش پیدا کردی ہے۔

چین کے ایک با اثر تھنک ٹینک نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں کسی بھی قسم کی سازش یا غیر ریاستی عناصر کو استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو چین مداخلت کرے گا اور پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنائے گا۔

بھارت کی طرف سے خطے کے حالات خراب کرنے سے پاکستان عدم استحکا م کا شکار ہو گا، جس سے بھارت اور چین کے تعلقات بھی مزید خراب ہوں گے۔

بھارتی میڈیا ’ہندوستان ٹائمزفرسٹ پوسٹ‘ کے مطابق بین الاقوامی تعلقات کے چینی انسٹیٹیوٹ(CICIR) چین کے طاقتور تھنک ٹینکس میں سے ایک ہے جو ریاستی سلامتی کی وزارت کے ساتھ وابستہ ہے۔

اس نے نئی دہلی کو خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں اگر اس نے 46ارب ڈالر کے پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبے میں خلل ڈالا تو اسے مداخلت کرنی پڑے گی۔

تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر ہو شش ہنگ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یوم آزادی کے خطاب کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم کے بلوچستان کے متعلق بیان نے چین اور اس کے مفکرین کے لیے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ بھارت کی بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات اور جنوبی بحیرۂ چین پر بھارت کا بدلا ہوا مؤقف بھی چین کے لیے خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔

ہوجن نے کہا کہ چین کے لیے تازہ ترین تشویش آزاد کشمیراور بلوچستان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریر ہے۔

انہوں نے کہ بلوچستان میں بھارت حکومت مخالف عناصر کو استعمال کر سکتا ہے جہاں چین 46ارب ڈالر کے سی پیک منصوبے پر کام کررہا ہے جو اس کے ’ون روڈ ون بیلٹ‘ منصوبے کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ہوجن نے بھارت کی طرف سے بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں عسکریت پسندوں کی پشت پناہی میں بھارت کے ملوث ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی قسم کی بھارتی سازش نے سی پیک منصوبے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو چین کو اس میں مداخلت کرنی پڑے گی۔

اسلام آباد اپنے مؤقف پر واضح ڈٹا ہوا ہے کہ خطے میں بھارت مشکلات پیدا کر رہا ہے ، مودی کے بیان نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ نئی دہلی خطے میں کشیدگی میں اضافہ کرسکتا ہے۔

بھارت کی طرف سے ایسا کوئی بھی اقدام پاکستان کو ایک نارمل ملک بننے میں مدد نہیں دے سکتا اور بھارت چین تعلقات مزید خراب ہوں گے، بھارت اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون بھی چین کے لیے بھی ایک فکر کا پہلو ہے۔