- الإعلانات -

پاک افغان ’باب دوستی‘ آمدورفت کے لیے کھل گیا-

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے متصل پاک افغان باب دوستی پر 14روز بعد آمدورفت بحال ہو گئی ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق مال بردار ٹرک پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل عاصم باجوہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چمن کے معاملے پر افغان حکام سے حکومتی سطح پر بات چیت کی گئی اور اس کے نتیجے میں انھوں نے( افغانستان) نے معافی کا اعلان کیا اور یہ مسئلہ حل ہو گیا۔

بابِ دوستی کو کھولنے کے فیصلے کا اعلان بدھ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں کیا تھا۔

ترجمان کے مطابق بدھ کو سرحدی علاقے میں دونوں ممالک کے سرحدی حکام کے درمیان باب دوستی کھولنے کے لیے مذاکرات ہوئے جس میں باب دوستی کو کھولنے پر اتفاق ہوا۔

خیال رہے کہ چمن سے متصل باب دوستی کو 18اگست کو پاکستانی حکام نے بند کیا تھا۔

باب دوستی کی بندش کے باعث اس سرحدی علاقے سے سفر کرنے والے لوگوں اور تاجروں جن کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں میں ہوتی ہے کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دونوں ممالک کے سرحدی حکام کے درمیان باب دوستی کھولنے کے لیے مذاکرات ہوئے

پاکستان کی سرحدی سیکورٹی سے متعلق ذرائع نے باب دوستی کو بند کرنے کا ذمہ دار افغان سیکورٹی حکام کو ٹھہرایا تھا۔

ان ذرائع کے مطابق ’18اگست کوانڈین وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کے دوران افغانستان کے سکیورٹی حکام نے افغان سرحدی علاقے اسپین بولدک کے لوگوں کو کسی جواز کے بغیر اشتعال دلایا تھا۔‘

ذرائع نے بتایا کہ اس پر وہاں کے لوگوں نے نہ صرف پاکستان کی جانب پتھراؤ کیا بلکہ قابل اعتراض جملوں کے اظہار کے علاوہ پاکستانی پرچم کو بھی نذر آتش کیا۔

اگرچہ پاکستانی حکام نے باب دوستی کو بند کرنے کا ذمہ دار افغان سیکورٹی حکام کو ٹھہرایا جبکہ سوشل میڈیا پر افغان حکام نے پاکستانی حکام کو مورد الزام ٹھہرایا تھا۔