- الإعلانات -

فوج کے خلاف کچھ عرصے سے پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، حقائق مسخ کرکے کسی شخص یا ادارے کو نشانہ بنانے کا حق کسی کو نہیں۔” بابر افتخار

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخارکے مطابق کچھ عرصے سے مسلح افواج اور اس کی کمان کو غیر معمولی طور پر پروپیگنڈے اور بے سروپا الزامات کا سامنا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانھوں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

ترجمان پاک فوج نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔ اس دوران شرکائے اجلاس کو ایجنسی کی جانب سے تفصیلی طور پر حقائق سے آگاہ کیا گیا اوربتایا گیا کہ کسی قسم کی بیرونی سازش کے شواہد اور ثبوت نہیں ملے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کا کام ہی پاکستان کے خالف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ شیخ رشید کا یہ کہنا کہ کسی چیف کا سازش کو خارج از امکان قرار نہ دینا حقائق کے منافی بات ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کے مطابق’ سازش’ اور’ مداخلت ‘ جیسے الفاظ سفارت کار استعمال کرتےرہتےہیں۔ مراسلے کے بعد جو بھی معاملہ ہوا وہ سفارتی سطح پرہوا ، لیکن اجلاس میں واضح انداز میں میں بتایا گیا کہ کوئی سازش نہیں ہوئی۔