- الإعلانات -

وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کا ریفرنس مسترد

پاکستان کی قومی اسمبلی کے سپیکر نے وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیت سے متعلق دائر کیا گیا ریفرنس ناکافی شواہد کی بنیاد پر مسترد کر دیا ہے۔

ادھر حکمراں جماعت کے ارکانِ قومی اسمبلی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔

 

نواز شریف کے خلاف ریفرنس عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی طرف سے دائر کیا گیا تھا جس میں پاناما لیکس میں سامنے آنے والی آف شور کمپنیوں کی معلومات کے تناظر میں وزیرِ اعظم کو نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی تھی۔

نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق 150 سے زیادہ صفحات پر مشتمل ریفرنس میں شیخ رشید نے موقف اختیار کیا تھا کہ پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد وزیر اعظم نے جھوٹ بول کر آئین کے آرٹیکل 63 کی شق 2 کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے انھیں نااہل قرار دیا جائے۔

آئین کی ان شقوں کے مطابق صرف صادق اور امین شخص ہی قومی اسمبلی کا رکن بن سکتا ہے۔

پیر کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے یہ ریفرنس اس بنیاد پر مسترد کر دیا گیا کہ اس درخواست کے ساتھ ایسے دستاویزی شواہد موجود نہیں جن کی روشنی میں وزیرِ اعظم کو نااہل قرار دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام آنے کے بعد میاں نواز شریف کی نااہلی سے متعلق ایک درخواست سپریم کورٹ میں بھی دائر کی تھی جسے اعتراض لگا کر واپس کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں پر وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف، پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور وفاقی وزیر خزانہ سمیت چھ افراد کو نوٹس جاری کیے ہوئے ہیں جن کی سماعت منگل کو ہوگی۔

عمران خان کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن میں

imran-khan

ادھر حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس بھی مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کو بھجوا دیا گیا ہے۔

یہ ریفرنس حکمراں جماعت کے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز اور طلال چوہدری کی طرف سے چار اگست کو دائر کیا گیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپیکر کی جانب سے اس ریفرنس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور قانون کے مطابق ایک ماہ پورا ہونے کے بعد یہ معاملہ اب خود بخود الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا ہے۔

نااہلی کے اس ریفرنس میں عمران خان کی طرف سے ٹیکس چھپانے کے لیے آف شور کمپنی بنانے کے اعتراف اور گوشواروں میں اپنے اثاثے چھپانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس ریفرنس میں پاکستان میں اُن کی جائیداد اور اس پر بننے والا ٹیکس ادا نہ کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔