- الإعلانات -

جماعتِ اسلامی کے رہنما کی پھانسی پر ’پاکستان کو شدید رنج‘

پاکستانی دفتر خارجہ نے بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی سے وابستہ رہنما میر قاسم علی کو پھانسی دیے جانے پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بنگلہ دیشی حکام نے سنہ 1971 کی جنگ میں جنگی جرائم کے ارتکاب پر میر قاسم علی کو پھانسی دیے جانے کی تصدیق کی تھی۔

 

قاسم علی کی پھانسی کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان کو بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کے اہم رہنما میر قاسم علی کو دسمبر 1971 سے قبل کیے جانے والے مبینہ جرائم پر غلط عدالتی طریقہ کے تحت پھانسی دیے جانے پر شدید افسوس ہے۔‘

پاکستان کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کی ابتدا سے ہی انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں اور گروہوں نے عدالتی کارروائیوں اور ان کی شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔

پاکستان نے ایک بار پھر بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 1974 میں ہونے والے سہہ فریقی معاہدے کی پاسداری کرے جن میں یہ کہا گیا تھا کہ اب مقدمات کو آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ مسائل کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے۔

یاد رہے کہ 63 سالہ میر قاسم علی کا شمار جماعت اسلامی کے اہم ترین رہنما کے طور پر ہوتا تھا اور وہ ایک معروف کاروباری شخصیت تھے۔

بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے دو سال قبل انھیں سزائے موت سنائی تھی تاہم جب حکام نے جماعت اسلامی کے رہنما میر قاسم علی سے صدر سے رحم کی اپیل کرنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے انکار کر دیا تھا۔

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے جرم میں اب تک جماعت اسلامی کے امیر مطیع الرحمان نظامی سمیت چھ افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

بنگلہ دیشں میں موجودہ حکومت نے جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے خصوصی عدالت بنائی تھی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹربیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقۂ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

میر قاسم علی کو ایک ایسے وقت میں پھانسی دی گئی ہے جب ملک میں اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔

رواں برس جون میں ہی پولیس نے 3000 افراد کے حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ شدت پسندوں کی جانب سے اقلیتوں اور سیکیولر نظریات رکھنے والے افراد پر ہونے والے حملوں کو روکنے کی ایک کوشش ہے تاہم اپوزیشن اسے سیاسی انتقام کا نام دے رہی ہے