- الإعلانات -

نواز شریف کو مزید مہلت، عمران خان کو نوٹس جاری

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی کی درخواست پر ان سے جواب طلب کیا ہے جبکہ وزیراعظم نواز شریف کو پاناما لیکس کے معاملے میں جواب داخل کروانے کے لیے مزید تین ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آف شور کمپنی بنانے کے معاملے پر عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 28 ستمبر تک اس بارے میں جواب داخل کروائیں۔

 

کمیشن نے یہ نوٹس وکیل شاہنواز ڈھلوں کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر جاری کیا ہے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے آف شور کمپنی بنا کر نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ اس رقم پر انھوں نے ٹیکس بھی ادا نہیں کیا۔

انتخابی گوشواروں میں بھی ان کی آف شور کمپنی کا ذکر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے وہ آئین کے آرٹیکل 62 اور63 پر پورا نہیں اُترتے اس لیے اُنھیں نااہل قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کی طرف سے عمران خان کی نااہلی سے متعلق دائر کیے گئے ایک اور ریفرنس پر مقررہ مدت میں کارروائی نہ کیے جانے پر وہ بھی الیکشن کمیشن کو مل گیا ہے تاہم کمیشن نے اس پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کے فنڈز میں مالی بےضابطگیوں سے متعلق دائر کی گئی درخواست کو عمران خان کی نااہلی سے متعلق دائر کیے گئے ریفرنس کے ساتھ یکجا کردیا ہے اور ان درخواستوں کی سماعت ایک ساتھ ہی ہوگی۔

یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کی تھی۔

ادھر الیکشن کمیشن نے پاناما لیکس میں وزیراعظم کے بچوں کے نام آنے پر اُن سمیت پانچ افراد کو جواب داخل کروانے کے لیے دی گئی مدت میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

منگل کو اس معاملے کی سماعت کے موقع پر سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیر خزانہ کی طرف سے الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ جواب داخل کروانے کے لیے انھیں مزید مہلت دی جائے جس پر الیکشن کمیشن نے اب وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر خزانہ کو 28 ستمبر تک جواب داخل کروانے کا حکم دیا ہے۔

ادھر وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق رکن قومی اسمبلی شیخ رشید کا ریفرنس مسترد کرنے اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کیا گیا ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوانے پر قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعتوں نے احتجاج کیا۔

اس موقع پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ریفرنس میں دو قسم کے فیصلے سے سپیکر کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔