- الإعلانات -

پاکستان افغان جنگ کے لیے اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گا، ملیحہ لودھی

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے لہٰذا عالمی برادری بھارتی بریریت کو روکنے کے لئے مداخلت کرے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے لہٰذا عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف آگے بڑھے اور اس بربریت کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔ ترجمان دفترخارجہ نفیس ذکریا کے مطابق پاکستانی وفد نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی نمائندے کے مؤقف کو مسترد کردیا کیونکہ بھارتی نمائندے کا مؤقف تاریخی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے انسانی حقوق کونسل کی توہین ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستانی وفد نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کونسل کے سوالات کا جواب دے کہ کیا بھارت کشمیر پر اقوام متحدہ قرادادوں کو جھٹلا سکتا ہے اور بتائے کہ بھارت کی 7 لاکھ فورسز کشمیر میں موجود ہیں یا نہیں، جس کا مطلب ہے کہ 70 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ دراندازی کے جھوٹے الزامات لگا کر 1989 سے لے کر اب تک مقبوضہ کشمیر میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زائد بے گناہ شہری شہید ہوچکے ہیں جس کے  واضح ثبوت کشمیر میں اجتماعی قبریں ہیں جب کہ جعلی مقابلوں کے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستانی وفد نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں پہلے نوجوان حریت رہنما برہان وانی کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور اس کے بعد احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق احتجاج سے روکنے کے لیے گزشتہ 2 ماہ سے کرفیو نافذ ہے، اس دوران 100 سے زائد بے گناہ کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا اور 10 ہزار سے زائد کشمیری تاحال زخمی حالت میں اسپتالوں میں موجود ہیں جب کہ 700 سے زائد کشمیری بینائی سے محروم ہوچکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان سب حقائق سے بھارت انکار نہیں کرسکتا، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کی ہرممکن مدد کرے اور بھارت پر زور دے کہ کشمیری عوام کو ان کی امنگوں کے مطابق اپنی وادی میں رہنے کا حق دیا جائے۔