- الإعلانات -

ایم کیو ایم لندن کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ارکان کا اسمبلی رکنیت سے استعفے نہ دینا کا فیصلہ

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی ارکان نے فاروق ستار کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسمبلی سے استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی سندھ اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کا ہنگامی اجلاس سید سردار احمد کی سربراہی میں ہوا جس میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر تمام ارکان نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور ایم کیو ایم لندن کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسمبلی رکنیت سے استعفے نہ دینا کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیوایم پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہارالحسن کا کہنا تھا کہ ہمارا لندن سے کوئی رابطہ نہیں، ہم نے ریاست پاکستان کا حلف اٹھایا ہے ، کسی کی تسلی یا تشفی کے لئے استعفیٰ نہیں دیا جاسکتا، عوام نے اعتبار نہ کیا تو استعفیٰ دیا جاسکتا ہے، استعفوں کا مطالبہ آئین کے مطابق غیرآئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے کسی رکن سندھ اسمبلی نے استعفیٰ نہیں دیا، ارم فاروقی کا استعفیٰ اب تک ہمیں موصول نہیں ہوا اس لئے وہ ایم کیو ایم کی  رکن اسمبلی ہی تصور کی جائیں گی جب کہ بیرسٹر سیف نے جعلی آئی ڈی سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، کسی جعلی آئی ڈی سے میرا بھی استعفیٰ آسکتا ہے۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ اسیروں کی رہائی کیلیے دوبارہ کوششیں شروع کریں گے، 105 لاپتہ کارکنان کی بازیبی اولین ترجیح ہے جب کہ حکام کو قیدیوں کے شفاف ٹرائل کا کہا ہے اور اگر ان پر کوئی جرم ثابت ہوتا ہے تو ایم کیوایم آواز نہیں اٹھائےگی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ایم کیو ایم لندن کے رہنما ندیم نصرت نے رابطہ کمیٹی اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے سمیت تمام شعبہ جات تحلیل کردیئے تھے جس کے بعد انہوں نے ارکان اسمبلی کو کہا تھا کہ انہوں نے بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کے نام پر ووٹ حاصل کئے اس لئے وہ اخلاقی حیثیت میں اپنی رکنیت سے استعفیٰ دیں۔