- الإعلانات -

کانگو وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین ہو گئی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کانگو وائرس سے متاثرہ ایک اور مریض دم توڑ گیا جس کے بعد رواں برس اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تین روز پہلے پشاور کے رہائشی صدیق الرحمان کو انتہائی تشویشناک حالت میں لایا گیا تھا۔

 

صدیق الرحمان کو شدید بخار اور کانگو وائرس کی علامات کے ساتھ ہسپتال کے خصوصی یونٹ میں داخل کیا گیا لیکن وہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ہسپتال میں دم توڑ گئے۔ ان کی عمر 45 سال تھی۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں رواں برس کانگو وائرس کے شبہے میں آٹھ مریض لائے گئے تھے جن میں سے چار میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

ان مریضوں میں دو کا تعلق افغانستان، تین کا خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں جب کہ دیگر کا تعلق خیبر ایجنسی، باجوڑ اور پشاور سے بتایا گیا ہے۔

رواں برس کانگو وائرس سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی مریض لائے گئے ہیں۔

گذشتہ سال کانگو وائرس سے متاثرہ 32 مریض حیات آباد میڈیکل کمپلیکس لائے گئے تھے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ان میں 12 مریض انتقال کر گئے تھے ۔ ہسپتال میں لائے گئے مریضوں میں 25 کا تعلق افغانستان اور باقی خیبر پختونخوا سے تھے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کانگو وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے اگرچے کوئی باقاعدہ اور علیحدہ یونٹ نہیں ہے لیکن اس ہسپتال کے چار کمروں کو کانگو وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے ’کانگو ایک خطرناک وائرس ہے جو مویشیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ متاثرہ مویشی کے جسم پر موجود خون چوسنے والے کیڑے کے کاٹنے سے ہوتا ہے یا متاثرہ جانور کا گوشت کاٹتے ہوئے کٹ لگنے سے ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق حیات آباد میڈکل کمپلیکس میں وائرس سے متاثرہ مریض تاخیر سے لائے گئے جس کی وجہ سے زیادہ مریض ہلاک ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ علامات ظاہر ہونے کے فوری بعد مریض کو ہسپتال لانا ضرور ہے۔

اس وائرس کی علامات میں شدید بخار، جسم پر خون کے دھبوں کے نشان یا جسم کے مختلف حصوں سے خون کا آنا شامل ہے۔