- الإعلانات -

انڈیا کے ایک فوجی کو ایل او سی عبور کرنے کی کوشش کے دوران پاکستانی فوج نے پکڑلیا-

پاک فوج کا کہنا ہے کہ اس نے انڈیا کے ایک ایسے فوجی کو پکڑا ہے جو کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کو عبور کر کے پاکستان کے زیرِ انتظام علاقے میں موجود تھا۔

ادھر انڈیا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس کا فوجی غلطی سے ایل او سی پار کر گیا تھا اور اس کے بارے میں پاکستانی فوج کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

پاک فوج کی جانب سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا تاہم اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے تصدیق کی کہ ایک انڈین فوجی پاکستان کی تحویل میں ہے۔

انڈیا کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق 37 راشٹریہ رائفل کا ایک جوان اپنی بندوق کے ساتھ غلطی سے لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب چلا گیا تھا۔بیان میں لائن آف کنٹرول کے کسی سیکٹر اور نہ ہی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے کے بارے میں پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپرینشز کو ہاٹ لائن پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بیان میں میڈیا کے بعض حلقوں میں آنے والی ان اطلاعات کی بھی تردید کی گئی ہے کہ لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کی جوابی کارروائی میں اس کے آٹھ فوجی مارے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی جمعے کو کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں سرحد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

انڈین وزارتِ دفاع کے بیان سے پہلے اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ ’انڈیا کے ایک فوجی کو ایل او سی عبور کرنے کی کوشش کے دوران پکڑا گیا ہے۔‘

ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جانے والے الجزیرہ ٹی وی چینل کو اپنے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو معلوم ہو کہ ہم آخری حد تک تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اگر انڈیا اسی طرح کی اشتعال انگیزی جاری رکھتا ہے تو اس صورت میں پاکستان اپنی تمام صلاحیتوں کے تحت اس کا جواب دینے پر تیار ہے۔‘

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ اس وقت بین الاقوامی سرحد، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈی پر انڈیا کی غیر معمولی فوجی نقل و حرکت دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے علاوہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق ورکنگ باؤنڈی پر ٹینک تعینات کیے جا رہے ہیں اور علاقے کو شہریوں سے خالی کرایا جا رہا ہے اور اگر یہ تمام تیاریاں سرحد کو پار کرنے کے لیے ہیں تو اس صورتحال میں پاکستان جواب دے گا۔

ملیحہ لودھی نے 2003 میں ایل او سی پر فائر بندی کے ہونے والے معاہدے کے ختم ہونے کے خدشے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ بالکل اس وقت یہ معاہدہ خطرے میں ہے۔‘

خیال رہے کہ اوڑی میں انڈین فوج پر حملے اور بعد میں انڈیا کے لائن آف کنٹرول پر سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے اور پاکستان کے انکار کے بعد دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید تلخ ہو گئے ہیں اور دونوں جانب سے سخت بیانات دیے جا رہے ہیں۔