- الإعلانات -

بانی ایم کیو ایم اور فاروق ستار سمیت 5 ملزمان کے ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری-

کراچی: اشتعال انگیز تقریر کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی ایم کیو ایم اور فاروق ستار سمیت 5 ملزمان کے ناقبل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں اشتعال انگیز تقاریر سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوئی جس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی خواجہ اظہار الحسن عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے سماعت کے موقع پر مفرور ملزمان کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھربانی ایم کیو ایم ، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور سلمان مجاہد بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔واضح رہے کہ 22 اگست سے قبل ایم کیو ایم کے بانی نے پارٹی کے کارکنوں سے خطاب کے دوران ملک کے اداروں کے خلاف اشتعال انگیز باتیں کی تھیں جس پر ان سمیت کئی دیگر پارٹی رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے۔
لاہور ہائی کورٹ نے ایم کیو ایم کی سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹریشن کی منسوخی، ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج سے متعلق درخواستوں اٹارنی جنرل آف پاکستان کو 17 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں فل بنچ نے آفتاب ورک سمیت متعدد درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے تحت سیاسی جماعت کا محب وطن ہونالازم ہے، ایم کیوایم کے قائدین کے بیانات سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جماعت محب وطن نہیں، عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت ملک مخالف سرگرمیاں کرنے پر کسی بھی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن منسوخ کی جا سکتی ہے۔درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے خلاف وفاقی حکومت کو درخواست دی مگر اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی لہذا عدالت ایم کیو ایم کی بطور سیاسی جماعت کی حیثیت سے رجسٹریشن منسوخ کرنے کے احکامات جاری کرے جبکہ اشتعال انگیز بیانات پر ایم کیو ایم کے قائد اور رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمات کے اندراج کا حکم دیا جائے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل حنا اسحاق سے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت نے ایم کیو ایم کے خلاف درخواست پر کیا کاروائی کی ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وفاقی حکومت درخواست پر کارروائی کیلئے غور کررہی ہے، قائد متحدہ کے پاکستان مخالف بیان کے بعد رینجر کراچی میں روزانہ کاروائی کر رہی ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ رینجرز کے ایک سب انسپکٹر کی کاروائی وفاقی حکومت کی کاروائی کے برابر کیسے ہوسکتی ہے . وزارت داخلہ کی جانب سے سیکشن آفیسر عبدالسلام عدالت میں پیش ہوئے، سیکشن آفیسر نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ ایم کیو ایم کے خلاف الیکشن کمیشن سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کررہی ہے۔جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا وزارت داخلہ کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ابھی تک مشاورت ہی کی جارہی ہے، عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل حنا اسحاق سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے وزارت داخلہ کا عدالت میں جمع کرایا گیا جواب پڑھا ہے جس پر حنا اسحاق نے انکار میں جواب دیا۔عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکی اس کیس میں سنجیدگی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے وزارت داخلہ کی فائل ہی نہیں دیکھی، جبکہ عدالت نے رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ فائل جس طرح تیار کی گئی ہے اس سے بہتر تو ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر کی ٹی اے . ڈی اے رپورٹ ہوتی ہے۔وفاقی حکومت کی وکیل نے عدالت سے جواب داخل کرانے کیلئے مہلت کی استدعا کی جس پر عدالت نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو سترہ اکتوبر کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی، عدالتی سماعت کے بعد وکلا نے احاطہ ہائی کورٹ میں قائد متحدہ اور ایم کیو ایم کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ متحدہ کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کی جائے۔
یاد رہے کہ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ ڈیڑھ سال قبل قائد متحدہ نے پاکستان اور اداروں کیخلاف بیان بازی کی اگر اسوقت حکومت کارروائی کرتی تو آج قائد متحدہ کو ایسی تقرریں کرنیکی جرات نہ ہوتی۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت ایم کیوایم پر پابندی عائد کرے اور قائد متحدہ کے بیانات کی توثیق کرنیوالے رہنماؤں کیخلاف کارروائی کرے، ایم کیو ایم پر پابندی کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے بعد وکلاء نے قائد متحدہ اور ایم کیو ایم کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔