- الإعلانات -

انٹیلی جینس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے متعلق اہم فیصلہ,مزیدجانئیے

حکومت نے پاکستان کی انٹیلی جینس ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے متعلق اہم فیصلہ کر لیا ہے جس کے مطابق اگلے چند ہفتوں میں لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کو ڈی آئی جی کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ ایک خفیہ سکیورٹی اہلکار نے دی نیشن کو بتایا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کی تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور نئے سربراہ کی تقرری پر غور و خوض جاری ہے۔ جنرل رضوان اختر ستمبر 2014 میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بنے تھے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ رضوان اختر اپنے عہدے سے قبل از وقت ہی علیحدہ ہونے والے ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ نئے ڈی جی کراچی سے تعلق رکھنے والے لیفٹننٹ جنرل نوید مختار ہوں گے۔ ایک اور سکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ جنرل اختر کراچی میں ڈائریکٹر جنرل کے فرائض سر انجام دے چکے ہیں اس لیے انہیں وہاں کے چیلنجز کا علم ہے۔ ڈی جی کی تبدیلی کے وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا گیا کہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع یا ریٹائرمنٹ سے قبل ڈی جی کی تبدیلی ممکن نظر نہیں آتی۔ یاد رہے کہ اس سال کے شروع میں راحیل شریف نے کہا تھا کہ وہ نومبر میں ریٹائر ہو جائیں گے اور توسیع کا مطالبہ نہیں کریں گے۔ عاصم سلیم باجوہ نے ایسی کسی بھی خبر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔
دوسری جانب  ٹی وی پروگرام میں سینئر تجزیہ نگار کے تہلکہ خیز انکشافات، تفصیل کے مطابق  ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار نے کہا کہ کون یہ کہہ سکتا ہے کہ فوج اور حکومت کے درمیان اختلاف نہیں؟ سینئر تجزیہ نگار چوہدری غلام حسین کے سوال کے جواب میں سینئر صحافی و تجزیہ نگار عارف نظامی نے کہا کہ حکومت اور فوج میں اختلاف تو یقیناًہے۔ جو تردید منظر عام پر آئی ہے وہ بھی ملفوف ہے۔ سینئر تجزیہ نگار عارف نظامی نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق عسکری ذرائع اس ایک خبر کے لیک ہونے پر انتہائی نا خوش ہیں جبکہ آئی ایس آئی سب سے زیادہ نا خوش اور سخت ترین ناراض ہے۔ سینئر تجزیہ نگار نے کہا کہ مذکورہ خبر میں چند باتوں کو جان بوجھ کر طول دیا گیا۔ عارف نظامی نے کہا کہ پنجاب میں رینجرز کو اختیارات دینے کیلئے کہا جا رہا ہے۔ اس خبر کے مطابق شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ ہم تو یہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جب ہم کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو فوج درمیان میں آ دھمکتی ہے۔ سینئر صحافی عارف نظامی نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی اس معاملے پر خاصی پریشان ہے۔ ایک طرف انڈیا کا خطرہ ہے۔ آرمی چیف نے اس حوالے سے دو ٹوک بات کہی ہے کہ انڈیا ہمارے خلاف ایک جعلی کمپین چلا رہا ہے۔ سینئر تجزیہ نگار عارف نظامی نے کہا کہ ایک ایسی خبر منظر عام پر آ گئی جس کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ کیا یہ خبر کسی سیاستدان نے بریک کی ہے؟ یہ خبر کسی کے کہنے پر کسی اعلیٰ سرکاری اہلکار نے لیک کی ہے۔ اس طرح کی خبریں لیک کرنا ملک و قوم کے مفاد میں بالکل نہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل ایک انتہائی اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی کی گفتگو کے دوران بے تکی اور بے جا مداخلت کی گئی تھی جسے میٹنگ میں موجود تمام ہائی آفیشلز نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔