- الإعلانات -

حکومت :پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کی حکومت نےحزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دو نومبر کو پاناما لیکس کے معاملے پر اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنا دینے کے بارے میں پارلیمنٹ میں موجود پارلیمانی جماعتوں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمانی جماعتوں سے رابطے کے لیے جمعے کو وفاقی وزرا پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

 

اس کمیٹی میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے علاوہ خواجہ سعد رفیق اور حاصل بخش بزنجو شامل ہیں۔

یہ کمیٹی پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی اور اُنھیں پانامالیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہونے کے باوجود پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاج کی کال کی مخالفت کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کرے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ہی پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق درخواست پر وزیراعظم سمیت دیگر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔

تاہم عدالت نے تحریک انصاف کا دھرنا روکنے اور پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو دینے سے متعلق درخواستیں بھی مسترد کی ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس طلب کرنے کے بارے میں بھی غور کیا جا سکتا ہے۔

پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی جماعتوں نے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی قابل ذکر ہیں، عمران خان کی احتجاج اور شہر کو بند کرنے کی دھمکی کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔