- الإعلانات -

نئی دلی:جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا, پاکستانی سفارتی افسر کو رہا

بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں پولیس کے مطابق پاکستان کے اس سفارتی افسر کو رہا کر دیا گیا ہے جنھیں مبینہ طور پر جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

پاکستانی ہائی کمیشن کے ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارتکار کو حراست میں لیے جانے پر انڈین حکام سے احتجاج کیا گیا ہے۔

جمعرات کی صبح دلی پولیس کی کرائم برانچ کے ایک سینیئر افسر روندر یادو نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستانی اہلکار محمود اختر کو بدھ کے روز پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا اور چند گھنٹے بعد ہی انھیں رہا کر دیا گيا تھا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ پاکستانی سفارتی اہلکار کو’ کل صبح اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انھیں راجستھان کے دو مقامی اشخاص دلی کے چڑیا گھر کے علاقے میں سرحدی علاقوں میں فوج کی تعیناتی اور سرگرمی سے متعلق بعض دستاویزات دے رہے تھے۔’

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ محمود اختر پر چھ ماہ پہلے ہی سے نظر رکھی جا رہی تھی۔

دلی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوگچھ کے دوران محمود اختر نے بتایا کہ ان کا تعلق پرانی دلی میں لال کنوئیں کے علاقے سے ہے اور اس سلسلے میں انھوں نے بعض انڈین شناختی دستاویزات بھی پیش کیں لیکن مزید تفتیش سے معلوم ہوا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔

روندر یادو کے مطابق پھر وزارت خارجہ کے افسران سے رابطہ کرنے پر اس بات کی تصدیق ہوئی کی وہ پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات ہیں اور انھیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہے ‘جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گيا۔’