- الإعلانات -

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کی پکڑ دھکڑ سے روک دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کےکارکنوں کو ہراساں کرنے اور پکڑ دھکڑ سے روک دیا۔

تحریک انصاف کے وکلاءنے عدالت کو یقین دہانی کروادی ہے کہ عمران خان عدالتی فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی پر مشتمل سنگل بنچ نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑدھکڑ کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ پرامن احتجاج کریں گے یا اسلام آباد بند کریں گے؟

انہوں نے کہا ک ہآپ کے احتجاج اور اظہار رائے کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ دیا، آپ نے عدالت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا، آپ عدالت کے حکم کو مانیں گے یا نہیں؟

وکلاءنے انہیں یقین دہانی کروائی کے قانون کی حکمرانی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور عدالتی حکم من وعن تسلیم کیا جائے گا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اپنے حکم پر عملدرآمد کروانا آتا ہے۔

عدالت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کوئی کنٹینرز نہ لگائیں، کوئی پکڑدھکڑ نہ کریں، اگر کوئی جرم کرتا ہے، قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو مقدمہ درج کر کے کارروائی کریں۔

عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ہدایات جاری کیں کہ گرفتار افراد کی فہرستیں پیش کریں اور یہ بھی بتائیں کہ ان افراد کو کن مقدمات میں گرفتار کیا گیا، کیس کی مزید سماعت 31اکتوبر کوہوگی۔