- الإعلانات -

پشاور حملے کی کہانی عینی شاید 12سالہ ثناءاللہ کی زبانی.

پشاور: پاکستان ایئر فورس بڈھ بیر کیمپ میں دہشت گردوں نے آدمی پبلک سکول کی روایت دہرادی 12 سالہ ثناءاللہ جو روزانہ اپنے والد کے ساتھ فجر کی نماز کیلئے ایئرفورس کالونی کی مسجد جاتا ہے جمعہ کے روز بھی نماز فجر کی ادائیگی کیلئے مسجد چلا گیا وضو کے بعد جماعت میں تھوڑا سا وقت باقی تھا والد کے ساتھ قرآن پاک کی تلاوت شروع کی اس دوران امام مسجد داخل ہوئے اور سنت پڑھنے لگے کہ اچانک زوردار دھماکوں کی آوازیں شروع ہوئیں۔ ثناءاللہ کہتا ہے کہ ایسی آوازیں میں نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں اور اچانک گولیاں چلنے لگیں مسجد میں سارے سوچ رہے تھے کہ کہاں پناہ لیں اچانک فرنٹیئر کانسٹیبلری کی وردی میں ملبوس دو نوجوان اندر آئے اور فوراً کہنے لگے دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے ایک طرف کھڑے ہوجاﺅ تاکہ تم لوگوں کو باہر نکالا جاسکے۔ سارے لوگ مسجد کی شمال کی دیوار سے چپک گئے اچانک وردیوں میں ملبوس ایک نوجوان نے کہا کہ سب اب نشانے پر ہیں۔ چلاﺅ گولی اور میرے سامنے وردی میں ملبوس دہشتگردوں کے کلاشنکوفوں سے انگارے الگنے لگیں جبکہ دیوار کے ساتھ کھڑے نمازیوں میں سے کسی سے آہ تک نہیں نکل رہی تھی۔ میرے والد نے فوراً مجھےا پنے پیچھے دیوار کے ساتھ چکادیا اور گولیاں چلنے لگیں۔ پتہ نہیں میرے والد کو کتنی گولیاں لگیں کہ اچانک میرے ران میں دوگولیاں گھس گئیں اور ایک چیخ کے ساتھ میں گر پڑا میرے گرنے کے ساتھ ہی میرے والد بھی گر پڑے لیکن گولیاں چلتی رہیں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی میرے اوپر والد خون آلود حالت میں گر پڑے ایک دہشتگرد چلایا۔ ان سے تو اپنا بدلہ چکا لیا اب کوارٹر کی طرف چلتے ہیں اچانک دوسری طرف سے بھی گولیاں چلنے لگیں ایک دہشتگرد پھر چیخا فوجی آگئے ہیں بھاگو۔ مسجد ایسی سنسان ہوگئی کہ کوئی آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔