- الإعلانات -

عدلیہ کے فیصلے حق میں ہوں یا مخالفت میں، قبول کرنے ہی پڑتے ہیں: سعد رفیق

کراچی : وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کا کہنا ہے کہ عدلیہ کے فیصلے حق میں ہوں یا مخالفت میں، قبول کرنے ہی پڑتے ہیں، کہتے ہیں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ناانصافی ہوئی لیکن پیپلزپارٹی نے اسے قبول کیا ۔

وزیرریلوے نے ساڑھے سولہ کروڑروپے کی لاگت سے اڑتالیس نئے فلیٹس کے تین بلاک تعمیر کروانے کا سنگ بنیاد رکھا جو جنوری 2018 میں تکیمل کو پہنچیں گے ،رہائشی منصوبے کے افتتاح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پانامہ لیکس پران کاکہناتھاکہ عدلیہ کے فیصلے حق میں ہوں یامخالفت میں قبول کرنے ہی پڑتے ہیں، پاناما لیکس کیس کا جو بھی فیصلہ ہوگا قبول کریں گے۔

ایم کیوایم پاکستان کے حوالے سے خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ فاروق ستاراوران کے ساتھیوں نے ملک کے خلاف بات کرنے پرالطاف حسین سے لاتعلقی کااظہارکرکے بہت اچھا اورہمت کا کام کیا، ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو کوئی ٹف ٹائیم نہیں دے سکتا تھا، لیکن الطاف حسین نے یہ موقعہ خود فراہم کیا۔

کراچی سرکلرریلوے کی بحالی کے متعلق وزیر ریلوے نے بتایاکہ انہوں نے پہلے بھی دوبار سابق وزیرِ اعلیٰ قائم علی شاہ سے بات کی اور وہ اب مراد علی شاہ سے بھی بات کرنے کوتیار ہیں، کیونکہ سرکلرریلوے کراچی کی ضرورت ہے،ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ اور سڑکیں تباہ حال ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کے سب سے پہلے میٹرو اور گرین لائن سروس بھی کراچی میں ہی شروع ہونی چاہئے تھی۔

زمینوں پرقبضے کے حوالےسے عدلیہ میں ریلوے کی مناسب پیروی نہ ہونے پروزیرریلوے کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کو قبضہ مافیا کا سامنا ہے ان کا کہنا تھا کہ نے ڈی ایس نثارمیمن کوسخت سست قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ نہ ہی ریلوے کی زمینو ں پرکچی آبادیوں کو چھیڑیں گے اور نہ ہی بڑے مرغوں کوچھوڑیں گے،ریلوے افسراں کے بڑے بڑے بنگلوں کو چھوٹا کر رہے ہیں، جس سے دیگر ملازمین کو بھی سہولیات دے سکیں گے۔