- الإعلانات -

این اے 110: جرح کرنے تک امیدوار کی بے ایمانی ثابت نہیں ہو سکتی:سپریم کورٹ

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں این اے 110 میں دھاندلی سے متعلق اپیل کی سماعت ، جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے ہیں کہ امیدوار کی بے ایمانی اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتی جب تک آر او کو بلا کر جرح نہ کی جائے۔

سپریم کورٹ میں حلقہ این اے 110 میں مبینہ دھاندلی کی عثمان کی اپیل پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

دلائل دیتے ہوئے عثمان ڈار کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا حلقے کے پچاس ہزار ووٹ غیر مصدقہ ہیں جبکہ خواجہ آصف کی جیت کا مارجن صرف بیس ہزار ہے ، بابر آعوان کا کہنا تھا بیگ سے ایسی کاونٹر فائلز بھی نکلیں جن ہر شناختی کارڈ نمبر کا اندراج غلط تھا۔

ان کا کہنا تھا ریٹرننگ افسر خواجہ آصف سے ملا ہوا تھا جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا ریٹرننگ افسر ملا ہوا تھا تو درخواست دے کر طلب کیوں نہیں کیا گیا ۔ التوا کی درخواستوں پر عثمان ڈار کو 3 بار جرمانہ کیا گیا۔

انہوں نے استفسار کیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے پر آپ کا حق سماعت کیا رہ جاتا ہے ، ان کا کہنا تھا یہ بھی سوال ہے غیر مصدقہ ووٹ کس کو ملے ، امیدوار کی بے ایمانی اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتی جب تک آر او کو بلا کر جرح نہ کی جائے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی جبکہ بابر اعوان اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔