- الإعلانات -

بلاول غیر سنجیدہ بچہ ہے جسے سیاست کی الف ب بھی نہیں آتی، چوہدری نثار

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری غیر سنجیدہ بچہ ہے جسے سیاست کی الف ب بھی نہیں آتی۔

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے دوران چوہدری نثار نے کہا کہ بلاول غیر سنجیدہ بچہ ہے اسے سیاست کی الف ب نہیں آتی، وہ اپنے والد کی عمر کے لوگوں کو الٹے القابات سے نواز رہا ہے۔ بلاول بھٹو کو سندھی کیا اردو بھی نہیں آتی ، ایک ایسا بچہ جو اس ملک کی زبان تک نہیں جانتا اور تقریریں بھی رومن اردو میں لکھ کر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  معلوم نہیں ایک 27 سال کا لاعلم بچہ پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعت کی کیسے قیادت کررہا ہے، انہیں کچھ لوگوں کا پتہ ہے جو بلاول زرداری کے منہ میں بات ڈالتے ہیں، جلد ہی پیپلز پارٹی سے متعلق ایک تفصیلی پریس کانفرنس کریں گے۔

پرویز خٹک کے قافلے پر شیلنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دھرنے اور مظاہرے کے لئے آنے والوں کو اسلام آباد کے راستے کھلے ملیں گے لیکن تشدد، انتشار اور لاک ڈاؤن کے لئے جو بھی آئے گا اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا، وہ انتشار اور تشدد کی سیاست پھیلانے والوں کے لئے ڈکٹیٹر ہیں، اگر وہ حقیقت میں آمر ہوتے تو پرویز خٹک اور ان کی جماعت کو اسلام آباد آنےکی اجازت نہ دیتے۔ افغان مونا لیزا کی گرفتاری پر چوہدری نثار نے کہا کہ  شربت گلہ کی جاسوسی سے متعلق خبریں غلط ہیں، اس کے پاس جعلی شناختی کارڈ تھا لیکن وہ جاسوس نہیں تھی، وہ لاچار خاتون تھی اور ہم اس کے پاکستان میں قیام میں توسیع کے لیے تیار تھے۔

چوہدری نثارعلی نے کہا کہ گورنر سندھ کی تبدیلی کے فیصلے میں وہ بھی شامل تھے، عشرت العباد کی اننگز لمبی تھی لیکن اسےایک نہ ایک دن ختم ہونا تھی۔ عشرت العباد کو ہٹانے کے لئے گزشتہ کچھ مہینوں سے سوچ و بچار کیا جارہا تھا، وزیراعظم نے چند ہفتوں پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا لیکن اچھے وقت کا انتظار کیا جارہاتھا۔ یوم اقبال پر تعطیل کے سلسلے میں پیدا ہونے والے ابہام پر چویدری نثار علی خان نے کہا کہ سوشل میڈیا میں جھوٹ اور فریب کا طوفان ہے، پاکستان میں چھٹیوں کی بہتات ہے اور ہمیں کام کی ضرورت ہے، چھٹی دے کر گھر میں بیٹھ کر اقبال ڈے نہیں منایا جاتا، یہ دن اسکولوں میں علامہ اقبال کی فکر پر سیمینار اور پروگرام منعقد کرکے منایا جانا چاہیے، چھٹی کے حوالے سے  ایف آئی اے کو جھوٹے نوٹی فکیشن کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ  نادرا کو چند کرپٹ لوگوں نے بدنام کیا ہوا ہے، ہمیں پاکستان کی نیشنل ڈیٹابیس اتھارٹی میں کرپٹ اور دو نمبر لوگوں کی ضرورت نہیں،نادرا میں کرپٹ لوگوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا جب کہ آئندہ 6 سے 7 ماہ میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔