- الإعلانات -

عمران ایک وکیل سے ناخوش، دوسرے سے مایوس

پاناما کیس میں عمران خان ایک وکیل سے ناخوش اور دوسرے سے مایوس ہوگئے، حامد خان سے کام نہیں بن رہا، نعیم بخاری کا جادو بھی نہیں چل رہا، حامد خان کو بدلنے پر غور شروع کردیاگیا،پارٹی رہنماؤں نے انہیں بابر اعوان سے مقدمے کی پیروی کرانے کے مشورے دیے ہیں۔

تحریک انصاف کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جس کے مطابق عمران خان کی لندن سے واپسی پر سپریم کورٹ میں وکیل بدلنے کی درخواست دینے کا امکان ہے۔

سپریم کورٹ میں آج ایسا کیا ہوا کہ اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف اپنے وکلاء تبدیل کرنے پر غور کرنے لگی؟

پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کے دوران اس مشہور ظفر علی شاہ کیس میں سے کچھ پڑھنا چاہا جس کے نتیجے میں عدالت نے پرویز مشرف کی بغاوت کو جائز قرار دے دیا تھا۔

تحریک انصاف کے وکلاء کے دلائل پر جج حضرات نے ریمارکس دیے جس پر عدالت قہقہوں سے گونجتی رہی۔

عمران خان نے میڈیا سے بات چیت کی تو عدالتی عمل پر بظاہر اطمینان کا اظہار کیا، تاہم عدالتی کارروائی کے بعد جب تحریک انصاف کی لیگل کمیٹی کا اجلاس ہوا تو عمران خان اپنے وکلاء سے ناخوش نظر آئے۔

کچھ رہنماؤں نے شکوہ کیا کہ حامد خان اس کیس کو جارحانہ انداز میں نہیں لڑ رہے، عمران خان نعیم بخاری کی کارکردگی پر بھی مایوس نظر آئے۔

بعض ذرائع کے مطابق اجلاس میں حامد خان کی جگہ بابر اعوان کو اپنا وکیل مقرر کرنے پر بھی غور کیا گیا۔