- الإعلانات -

قطری شہزادے تلور کا گوشت نہیں کھاتے تو شکار کس لیے؟حیران کن انکشاف

لاہور(ویب ڈیسک)تلور (houbara bustard)کا شمار خوبصورت صحرائی پرندوں میں ہوتا ہے ، افزائشِ نسل کے موسم میں اس کا رقص بھی کم دلکش نہیں ہوتا ، پوری دنیا میں صرف پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں تلور کا بے دریغ شکار کیا جاتا ہے۔

قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات میں تلور کا کردار نہایت ہی اہم ہوگا ، 500 فٹ بلندی پرواز کی صلاحیت رکھنے والے اس حساس اور شرمیلے پرندے کا شکار اس کے گوشت کھانے کے لئے نہیں بلکہ اس کا صرف پوٹا کھانے کے لئے کیا جاتا ہے اور وہ بھی ترپٹے ہوئے تلور کا پیٹ چاک کر کے اس کا کلیجہ نکال لیا جاتا ہے۔

عرب شہزادے اس کا پوٹا کچا ہی کھا جاتے ہیں ، ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کی جانب سے تلور کے شکار کی اجازت پر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قطری شہزادوں کو شکار کی اجازت بادشاہت کی ایک مثال ہے۔

جہاں ایک جانب تلور کے شکار پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہیں حکومتی ارکان اس شکار کو عام سے بات سمجھتے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ تلور کا شکار تو ہوتا ہے لیکن تلور اور پیدا ہو جاتے ہیں۔

تلور کے پوٹے کی خاصیت یہ ہے کہ اس سے قوت میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ خاص پوٹا ہر تلور سے نہیں نکلتا سو میں سے بمشکل ایک تلور سے یہ خاص پوٹا نکلتا ہے۔