- الإعلانات -

سپریم کورٹ :لندن فلیٹس کے معاملے میں نوازشریف کے شامل ہونے کی دستاویز نہیں دی گئیں

اسلام آباد :تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت کل (جمعرات ) تک ملتوی کر دی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناما کیس میں گزشتہ پانچ سماعتوں سے جاری نعیم بخاری کے دلائل مکمل ہونے کے بعد شیخ رشید کے دلائل سنے اور وزیرا عظم کے وکیل مخدوم علی خان کے دلائل کے بعد سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ۔ کل مخدوم علی خان اپنے دلائل جاری رکھیں گے ۔

کمر میں درد ہے ، انجیکشن لگوانے کیلئے 2گھنٹے کی مہلت دی جائے : تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری کی عدالت سے استدعا

سماعت شروع ہوتے ہی تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل کا سلسلہ گزشتہ روز سے جوڑتے ہوئے موقف اپنایا کہ نوازشریف اور بچوں کے بیانات میں تضاد ہے ۔ بیئرر سرٹیفکیٹ پرائز بانڈ نہیں ہوتا بلکہ اس کا حامل ہی آف شور کمپنی کا مالک ہوتا ہے اور قانون کے مطابق بیئررسرٹیفکیٹ سے متعلق بتانا ضروری ہے جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ غالباُُ یہ قانون 2002ءمیں آیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ لندن فلیٹس کے معاملے میں نوازشریف کے شامل ہونے کی دستاویزات شامل نہیں ہیں ۔
قانون دان نعیم بخاری نے کہا کہ فلیٹس ٹرانسفر تک بیئرر سرٹیفکیٹس کا ریکارڈ دینا ہو گا ۔ شریف فیملی کو سرٹیفکیٹ قطری خاندان کے پاس ہونے کا ثبوت دینا ہو گا جس پر جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ کیا کمپنی رجسٹریشن کے قانون کا اطلاق پہلے سے موجود کمپنیوں پر ہوتا ہے تو نعیم بخاری نے جواب دیا کہ رجسٹریشن کے نئے قانون کا اطلاق سب پر ہوتا ہے ۔شریف خاندان کے بقول2006ءسے قبل بیئرر سرٹیفکیٹ قطری خاندان کے پاس تھے تو شریف خاندان کو ثابت کرنا ہو گا کہ ان کا ہر کام قانون کے مطابق ہوا ۔ مریم نواز کے پاس آف شور کمپنیوں کیلئے پیسہ نہیں تھا اوربلیک لاءڈکشنری کے مطابق زیر کفالت وہ ہوتا ہے جسکے اخراجات دوسرا برداشت کرے ۔ آف شور کمپنیوں کے لئے مریم کو رقم نوازشریف نے دی وہ اپنے والد کے زیر کفالت ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نوازشریف نے مریم کو کروڑوں روپے بطور تحفہ دیے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ بخاری صاحب آپکی تعریف مان لیں تو کیا مریم حسین نواز کے زیر کفالت ہیں ؟

جسٹس اعجاز افضل نے پوچھا کہ کیا والد کے ساتھ رہنے والا زیر کفالت ہوتا ہے ۔نعیم بخاری نے موقف اپنایا کہ کیپٹن صفدر کی ریکارڈ کے مطابق کوئی آمدن نہیں تھی اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ شادی کے بعداسکی بیٹی کی کفالت شوہر کرے ۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ ابھی بھی یہ تعین ہونا باقی ہے کہ فلیٹس کب خریدے گئے ؟ نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت سے وزیراعظم کی نااہلی کا فیصلہ چاہتے ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ بخاری صاحب آپکے بقول شریف خاندان نے فلیٹس 1993ءاور 1996ءکے درمیان خریدے ۔ شریف فیملی کے بقول انہیں فلیٹس 2006ءمیں منتقل ہوئے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ باتیں پہلے بھی ہو چکی ہیں کوئی نیا نقطہ بیان کریں جس کے بعد تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ انکی کمر میں درد ہے لہذٰا انجیکشن لگوانے کیلئے 2گھنٹے کا وقفہ دیا جائے جسے عدالت نے منظور کر لیا اور شیخ رشید کو دلائل کا موقع فراہم کیا گیا جنہوں نے عدالت کو بتایا کہ نعیم بخاری کے دلائل کی مکمل تائید کرتا ہوں ۔ ایک طرف مریم نواز کہتی ہیں کہ ان کی آمدن نہیں اور دوسری طرف مریم نواز امیر ترین خاتون ہیں ۔” آپ نے انصاف فراہم کرنے کا حلف لیا ہے اور عوام کی نظریں عدالت پر ہیں “۔ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ججز کو سارا علم ہے۔

انہوں نے موقف اپنایا کہ یہ مقدمہ 20کرو ڑ عوام کا ہے ۔ عدالت سب کچھ جانتی ہے ہم صرف معاونت کرنے کیلئے آئے ہیں ۔اگر کوئی کسی کے زیر سایہ ہے تو زیر کفالت کہلائے گا ۔وکالت کا تجربہ نہیں غلطی ہوئی تو عدالت سے معافی چاہوں گا ۔ قطری خط رضہ بٹ کا ناول ہے ۔ پاناما کیس ایک خاندان بمقابلہ 20کرو ڑ عوام کا کیس ہے اور وزیر اعظم نوازشریف پاناما کیس میں براہ راست ملوث ہیں ۔ شریف خاندان قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے۔
شیخ رشید نے موقف اپنایا کہ قطری شہزادہ شریف خاندا ن کیلئے ریسکیو 1122ہے ۔ اسحاق ڈار نے اربوں روپے دبئی منتقل کرنے کا اعتراف کیا ۔ و ہ دو افراد ان کی اہلیہ اور مریم نوا زہیں ۔ شیخ رشید کے دلچسپ دلائل پر عدالت میں قہقہے لگ گئے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں موجود لوگ سنجیدہ ہوں ورنہ عدالت خود سنجیدہ کرے گی

شیخ رشید نے عدالت کو بتایا کہ قطری خط بیان حلفی کے بغیر ہے ، قانون کے مطابق زبانی ثبوت براہ راست ہونا چاہئیے اور سنی سنائی بات کوئی ثبوت نہیں ہوتا ۔”قطری خط سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے “۔ قطری خط کی حیثیت ٹیشو پیپر سے زیادہ نہیں ۔ کیس کے پیچھے اصل چہرہ سیف الرحمان کا ہے ۔1980ءمیں ایک درہم کی قیمت 2روپے 60 پیسے تھی اور قطری شہزادہ مین آف دی میچ ہے ۔نیب حدیبیہ پیپر مل میںاپیل کرتا تو آج یہاں نہ آتے ۔ ساڑھے تین سال میں تمام تعیناتیاں من پسند کی بنیاد پر ہوئی اور تمام تحقیقاتی ادارے حکومت کی جیب میں ہیں۔ رقم چھپانے کیلئے ماہر افراد کی معاونت لی جاتی ہے ۔سب سے پہلے ہم نے قطری نام ہیلی کاپٹر کیس میں سنا ۔پورٹ قاسم پاور پلانٹ سیف الرحمان کو دیا گیاجبکہ ایل این جی کا ٹھیکہ بھی انہی کی کمپنی کو ملا ۔حدیبیہ پیپر مل تمام کیسوں کی ماں ہے جس کے ہر صفحے پر اسحاق ڈار کے دستخط ہیں ۔164کے بیان پر لوگوںکو پھانسی چڑھتے دیکھا ہے ۔ساری عمر سیاسی ورکر رہا ہوں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ شیخ صاحب آپ سٹوڈنٹ لیڈر بھی تھے اور آپ کا تعلق بھی میرے حلقے سے تھا ۔

شیخ رشید کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سماعت میں آدھے گھنٹے کیلئے وقفہ کر دیا جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ فروری 2006 ءکو مریم نواز نے ٹرسٹ ڈیڈ پر لندن میں دستخط کیے اور ڈیڈ پر بطور گواہ کیپٹن صفدر کے دستخط بھی موجود ہیں ۔ حسن نواز نے 4فروری 2006ءکو ڈیڈ پر دستخط کیے ۔دوسرے گواہ وقار احمد کے دستخط میں فرق ہے ۔ یقین سے کہتا ہوں نوٹری پبلک کے سامنے کسی نے دستخط نہیں کیے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ٹرسٹ ڈیڈ کی سفارتحانے سے تصدیق نہیں ہوئی تو شیخ رشید نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ایک فرد لندن میں ہو اور دوسرا جدہ میں تو تصدیق کیسے ہو سکتی ہے ؟عدالت نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے کومبر گروپ کی ٹرسٹ ڈیڈغلطی سے جمع کرائی گئی ۔نیلسن اور نیکسکول والی ٹرسٹ ڈیڈ بعدمیں جمع کرائی گئی ۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ کیا راولپنڈی میں کوئی جائیداد بغیر رجسٹری بیچی جا سکتی ہے ؟ جس ٹرسٹ ڈہڈ کا آپ ذکر کر رہے ہیں وہ نیلسن اور نیسکول کی نہیں ہے ۔نیلسن اور نیسکول والی ٹرسٹ ڈیڈ بعد میں جمع کرائی گئی ۔ شیخ رشید نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں ایک سائیکل بھی نہیں بکتی جب تک شہادت نہ ہو۔ ”حج صاحب آپ نے کیس پڑھا ہے دوسرے فریق نے نہیں “۔وقار احمد کے دستخط پر بھی اعتراض ہے جبکہ مریم نواز کی بینی فشری آنر ہونے کی دستاویز بھی کسی نے چیلنج نہیں کیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ اللہ نئے راستے دکھانے کیلئے غلطیاں بھی کرواتا ہے ۔ میرا ایمان ہے عدالت کو دستاویز کی حقیقت کا علم ہے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ اگر دونوں دستخط کرانیوالے ٹرسٹ ڈیڈ کو تسلیم کریں تو پھر کیا صورتحال ہو گی؟ شیخ رشید نے وزیر اعظم نوازشریف کو سپریم کورٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نوازشریف سے جواب طلب کرے اور آرٹیکل 62اور 63کی بنیاد پر نااہل قرار دے۔نوازشریف قوم کے امین ہیں وہ خضرت عمر ؓ سے بڑے نہیں ۔عدالت وزیر اعظم نوازشریف کو طلب کرے ۔ سوال پوچھنے پر یہ کہ دینا کہ مذاق کر رہا تھا یا سیاسی بیان تھا کافی نہیں ۔ایک انٹرویو میں حسین نواز نے کہا میری والدہ کلثوم نواز کے نما پر اور بھی کمپنیاں ہیں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا آپ اس انٹرویو کی ٹرانسکرپٹ داخل کرائیں ۔ آپ ہماری معاونت کیلئے آئے ہیں جس پر شیخ رشید نے جواب دیا کہ میں اتنا لائق نہیں ہوں ۔
انہوں نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 19سال کی عمر میں ہمارے بچوں کا شناختی کارڈ نہیں بنتا مگر شریف خاندان کے بچے اس عمر میں ارب پتی بن جاتے ہیں ۔ عام بات ہے کہ 12ملین درہم میں سٹیل مل کے نٹ بولٹ بھی نہیں آسکتے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ مقدمہ 184/3کے تحت سن رہے ہیں اور یہ کیس باقی مقدمات سے مختلف ہے ۔ شیخ رشید نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور کوئی بھی ادارہ کام نہیں کر رہا ۔”سپریم کورٹ ہی عوام کی آخری امید ہے“۔ سپریم کورٹ وزیر اعظم نوازشریف کو طلب کرے کیونکہ منی لانڈرنگ بتا دی جائے تو ہمارا کیس ختم ہو جاتا ہے ۔ بڑے لوگوں کی اولاد ملک کی تباہی کا باعث بنتی ہے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ بڑے چھوٹے کی بات نہ کریں ہمارے لیے سب برابر ہیں ۔سیاسی مخالفین تقسیم ہوں تو انصاف وہی لگتا ہے جو حق میں ہو اور مرضی کا فیصلہ نہ آئے تو بے انصافی لگتی ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ اصل مسئلہ غلط بیانی کا ہے ۔شیخ رشید نے کہا کہ طارق شفیع نے بیان حلفی میں کہا کہ 12ملین درہم لے کر دے دیے جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ رقم کس کو دی گئی یہ نہیں بتایا گیا ۔ شیخ رشید نے پوچھا کہ 1980ءمیں دبئی میں 31بینک تھے کس کے ذریعے رقم منتقل ہوئی بتایا جائے ؟ شریف خاندان بتائے کہ 1980ءسے 2006ءتک پیسے کہاں رہے ؟ جدہ مل میں کام کرنے والے کسی مسلمان کا نام شریف خاندان بتا دیے ۔ شریف خاندان شروع سے ہی حقائق چھپا رہا ہے ۔ برطانیہ میں کوئی الزام لگ جائے تو ساری جائیداد بک جانے پر بھی جان نہیں چھوٹتی ۔ مریم صفدر ہی لندن جائیدادوں کی حقیقی وارث ہیں ۔

مستری اور مزدور طبقے نے ملک کو نقصان نہیں پہنچایا جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ آپ صادق اور امین سے متعلق جس کیس کا حوالہ دے رہے ہیں وہ جعلی ڈگری سے متعلق ہے تو شیخ رشید نے کہا کہ ڈگری جعلی ہونا کم جرم ہے لیکن ٹیکس چوری کرنا بڑا جرم ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ صادق اور امین کا ایشو اس عدالت میں مختلف مقدمات میں آیا ۔ کچھ مقدمات میں شہادتیں ریکارڈ بھی ہوئیں۔انہوں نے پاناما کیس پر سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہمارے سامنے درخواستیں آچکی ہیں اس کے بعد شیخ رشید کے دلائل مکمل ہو گئے جس کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو طلب کرنے کی درخواست دی ہے تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست ضرور سنیں گے ۔ آپ کیس کا حصہ تاخیر سے بنے اس لیے شاید آپکو علم نہیں ہوا ۔ کسی کی پوری زندگی کی سکروٹنی نہیں کر سکتے ۔پی ٹی آئی کو لندن فلیٹس تک محدود رہنے کا کہا تھا ۔
اس کے بعد وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ آج وقت کم ہے اگر مناسب ہو تو کل اپنے دلائل کا آغاز کرلوں تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج آپ وار م پریکٹس کر لیں ۔ مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ استدعا ختم ہونے کے حوالے سے قوانین موجود ہیں جس استدعاپر زور نہ دیا جائے ووخود ہی ختم ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل کی جانب سے پیش کردہ دستاویز میں مخصوص جائیدادوں کے حوالے سے نہیں بتایا گیا ، یہ استدعا بھی کی گئی کہ جائیدادوں کی تحقیقات کریں ۔ میگا کرپشن کیسز کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں ۔میں ابتدائی فوکس لندن کے 4فلیٹس پر رکھوں گا ۔عدالت میں یہ استدبھی ہے کہ شریف خاندان کے ٹیکس سے متعلق ایف بی آر سے تحقیقا ت کرائیں۔یہ نہیں واضح کیا گیا کہ جواب گزار کوں ہیں؟ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جواب گزار تو وزیر اعظم ہی ہیں تو انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا پاناما لیکس میں کہیں بھی نام نہیں تو کیا کروںجس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ لندن فلیٹس کے علاوہ بھی بہت کچھ عدالت کے سامنے ہے ۔ 2006ءسے پہلے کیا ہوتا رہا آپ کو سب بتانا ہو گا جس پر وزیراعظم کے وکیل نے جواب دیا کہ شہبازشریف ، عباس شریف ، رابعہ شہباز اور دیگر کے نام بھی لیے گئے اور تاثر دیا گیا کہ سارے خاندان نے مل کو لوٹا ۔یہ پوری فیملی ایک دوسرے سے لنک اپ ہے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے موکل نوازشریف تک محدود رہیں تو مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کیجانب سے وزیر اعظم کے علاوہ خاندان بھر کے نام لیے گئے ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وہ تو نعیم بخاری ، شجاعت عظیم کو نوٹس جاری کریں ، اس سے متعلق درخواست نہیں کی ۔وکیل نے کہا کہ درخواست گزاروں نے تمام وژن عدالت پر ڈالنے کی کوشش کی ۔ عدالت نے کہا کہ جب ضرورت محسوس کریں گے جن کو چاہیں نوٹس جاری کرینگے تو مخدوم علی خان نے کہا کہ سات روز سے دلائل سن رہاہوں تمام حقائق سے پردہ اٹھانا چاہتا ہوں۔ مخدوم علی خان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی ہے اور کل وہ اپنے دلائل کا تسلسل جاری رکھیں گے ۔