- الإعلانات -

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ‘توہین عدالت تصور ہوگی’ الیکشن کمیشن

خلاف ورزیوں پر آئین کی دفعہ 204 اور 1976 کے کے ایکٹ کی دفعہ 103 اے کے تحت سزائے دی جائے گی۔ سیکریٹر ی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد:  الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سیکریٹری بابر یعقوب فتح محمد نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ہونے والے ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جبکہ آئندہ کچھ روز میں پنجاب میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے متعدد حلقوں میں ضمنی انتخابات، سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا پہلہ مرحلہ ہونے جارہا ہے۔میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے بابر یعقوب کا کہنا تھا کہ ’ضابطہ اخلاق کو حکم کا درجہ دیا گیا ہے اور اس کی خلاف ورزی توہین عدالت تصور کی جائے گی۔‘انھوں نے کہا کہ خلاف ورزیوں پر آئین کی دفعہ 204 اور 1976 کے عوام کی نمائندگی کے ایکٹ کی دفعہ 103 اے کے تحت سزائے دی جائے گی۔ای سی پی کے سیکریٹری نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے لاہور کے حلقہ این اے 122، اوکاڑہ کے حلقہ این اے 144 اور پنجاب اسمبلی کے لاہور کے حلقہ پی پی 147 اور اٹک کے حلقہ پی پی 16 پر ضمنی انتخابات کے حوالے سے تمام اتنظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ضمنی انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے جائیں گے اور فوج اور رینجرز اہلکار پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور بار تعینات کئے جائے گے۔انھوں نے کہا کہ آئندہ چند روز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی نگرانی کی جارہی ہے اور 5 اکتوبر کو اس کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے ای سی پی کا اجلاس بھی منعقد کیا جارہا ہے۔خیال رہے کہ 5 اکتوبر کو ہونے والا ای سی پی کا اجلاس پنجاب اسبملی کے اٹک کے حلقہ پی پی 16 پر ہونے والے ضمنی انتخابات سے ایک روز قبل ہونے جارہی ہے جو کہ پنجاب کے سابقہ وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد خالی ہوئی ہے جبکہ دیگر 3 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات 11 اکتوبر کو ہونگے۔بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پنجاب اور سندھ کے 27 اضلاع کے 2 کروڑ اور 26 لاکھ سے زائد شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرے گے۔ای سی پی کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد وشمار کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لئے پنجاب کے 12 اضلاع میں 1 کروڑ 46 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں جبکہ سندھ کے 15 اضلاع میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 80 لاکھ ہے۔