- الإعلانات -

افغان امن کیلئے ماسکو کانفرنس ،پاکستان کی شرکت کی تصدیق

پاکستان نے افغان میں امن سے متعلق ماسکو کانفرنس کی تصدیق کردی ہے،ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کانفرنس میں کس حیثیت سے شرکت کرےگا یہ فیصلہ ہونا تاحال باقی ہے۔

میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان نےافغان امن عمل پر ماسکو میں 12 ملکی کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے، کانفرنس میں افغان طالبان کی شرکت کے بارے میں علم نہیں ۔

انہوں نے یوم پاکستان کے موقع پر مقبوضہ وادی میں حریت رہنماؤں کی نظر بندی اور درجنوں گرفتاریوں کی مذمت کی اور کہا کہ انسانی حقوق سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، رپورٹ میں کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کوئی ذکرہی نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا یہ بھی کہناتھاکہ پاکستان افغانستان میں امن کا قیام چاہتا ہے،اسی جذبہ خیر سگالی کے تحت افغان سرحد کھولی ، اب افغانستان بارڈر مینجمنٹ میں تعاون کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماسکو کانفرنس میں بھارت، ایران، چین سمیت12 وسطی ایشیائی ممالک شرکت کریں گے اور افغان امن عمل پر بات ہو گی،پاکستان کی شرکت کس سطح کے وفد کی ہو گی، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھاکہ انسانی حقوق سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ 2016کو تسلیم نہیں کرتے، بھارت میں انسانی حقوق کے بارےحقائق کےبرعکس مواد اس رپورٹ کےجھوٹا ہونےکا ثبوت ہے، اس رپورٹ میں کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا کوئی ذکر نہیں۔ 23 مارچ کو مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری عوام نے پاکستانی ترانہ گا کراپنی رائے کا اظہار کر دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں ونے والی زیادتیوں کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے، ہم ایسی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔

23 مارچ سے متعلق بھارتی وزیراعظم کے تہنیتی پیغام کو ترجمان دفتر خارجہ نے معمول کا رسمی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا کہیں سے کوئی اشارہ نہیں ملتا،سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کے گواہوں کو بھارت بلانے سے متعلق بھارتی حکومت نے تا حال کوئی رابطہ نہیں کیا ۔

ایک سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ سوڈان میں مغوی پاکستانی انجینئرایازجمالی کی بازیابی کیلئے ہرممکن کوشش کریں گے۔