- الإعلانات -

کراچی، میئر شپ کیلئے بڑے نام مقابلے کیلئے تیار

کراچی:  ایم کیو ایم نے وسیم اختر، جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن، پی ٹی آئی نے علی زیدی کو اس نشست پر مقابلے کیلئے تیار کرلیا .سندھ کے رواں ماہ شروع ہونے والے مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ نظریں جس نشست پر جمی ہوں گی وہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی میئر شپ ہے۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کی رائے میں یہ عہدہ سندھ کی تمام بڑی جماعتوں کے لئے اہم ہوگا اور سب کی یہی کوشش ہوگی کہ میئر شپ اسی کے حصے میں آئے، لہذا اس نشست کیلئے مقابلہ بھی انتہائی کانٹے کا ہوگا۔ کراچی میں جو جماعتیں اس کی اسٹیک ہولڈر ہونے کا دعوی کرتی ہیں ان میں متحدہ قومی موومنٹ، جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف شامل ہیں۔ ان جماعتوں نے اپنے اپنے اہم اور متوقع امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ ایم کیو ایم نے وسیم اختر، جماعت اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن اور پی ٹی آئی نے علی زیدی کو اس نشست پر مقابلے کیلئے تیار کیا ہے۔ میئرشپ کے علاوہ جن دیگر اور اہم شخصیات کو مختلف پارٹیوں کی جانب سے مقابلے کیلئے ٹکٹ جاری کئے گئے ہیں ان میں ایم کیوایم کے ڈاکٹر فاروق ستار، ریحان ہاشمی، سلمان مجاہد، رف صدیقی، زریں مجید، محمد حسین اور امین الحق شامل ہیں۔ امریکی میڈیاکے مطابق پارٹی حلقوں سے اطلاعات ملی ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ، جس کے پاس آخری بار تک کراچی کی میئر شپ فاروق ستار کی شکل میں موجود تھی، وہ اب بھی اس عہدے کیلئے خود کو سب سے سرگرم ثابت کرنے کیلئے حکمت عملی بنائے بیٹھی ہے اور اسی حکمت عملی کے تحت اس نے بڑے بڑے ناموں کو آگے رکھا ہے۔کراچی ڈویڑن کے چھ اضلاع میں تین دسمبر کو ہونے والی ووٹنگ کیلئے جماعت اسلامی کی جانب سے جن شخصیات کو سامنے لایا گیا ان میں حافظ نعیم الرحمن، مسلم پرویز، فاروق نعمت اللہ اور یونس بارائی پیش پیش ہیں۔ پی پی پی کی جانب سے نجمی عالم جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے عمران اسماعیل، علی زیدی، شمیم نقوی کو مقابلے کیلئے آگے لایا جا رہا ہے۔ تین بڑی جماعتوں کے علاوہ جن دیگر جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کو بلدیاتی انتخابات میں مقابلے کیلئے ٹکٹ دیئے ہیں ان میں جے یو پی (نورانی)کے صدیق راٹھور، عبدالحمید، اسماعیل نورانی، مستقیم نورانی، جے یو پی (ابوالخیر)کے محمود عسکری، علامہ عبدالغفار اویسی، اے این پی کے سلیم جدون، اورنگزیب بونیری اور مسلم لیگ( ن) کے محمد آصف خان شامل ہیں۔ واضح رہے کہ امیدواروں کے ناموں کا حتمی فیصلہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات،اتحاد اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے مشروط ہے۔ تیسرے مرحلے کیلئے کاغذات نامزدگی واپس لینے کی تاریخ یعنی چھ نومبر میں اب بھی 24دن باقی ہیں لہذا اسی حساب سے متوقع امیدواروں کی فہرست میں رد و بدل ہوسکتا ہے۔