- الإعلانات -

مسلم لیگ ن کی سیٹ خاندانی سیاست اور تضادات کی نذر

لاہور : پی پی 147 میں پاکستان مسلم لیگ ن کی سیٹ خاندانی سیاست اور خاندان میں پائے جانے والے تضادات کی نذر ہو گئی۔ پاکستان کے مشہور کالم نگار جاوید چوہدری نے حال ہی میں لکھے اپنے ایک کالم میں شریف برداران اور ان کی خاندانی سیاست کے پیش نظر ہونے والے تضادات کا انکشاف کیا ہے. اپنے کالم میں انہوں نے پی پی 147 سے امیدوار محسن لطیف کی ناکامی نے شریف برادران کے اختلافات کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ محسن لطیف میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے بھائی میاں لطیف کے صاحبزادے ہیں، میاں لطیف کی بیگم اور محسن لطیف کی والدہ میاں برداران کے تایا میاں عبد العزیز کی صاحبزادی ہیں۔میاں عبدالعزیز، شریف برادران کے والد میاں شریف کے بھائی اور اتفاق گروپ کے پارٹنر بھی تھے۔ 12 اکتوبر 1999ء میں شریف برادران کی گرفتاری پر نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تو پورے خاندان میں محسن لطیف اور پوری مسلم لیگ ن میں جاوید ہاشمی، یہ دونوں ہی تھے جنہوں نے کھُل کر ان کا ساتھ دیا۔ محسن لطیف اس پورے عرصے میں اپنی پھوپھی کے ہمراہ رہے جس کے باعث میاں محمد نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو آج بھی محسن لطیف کے ساتھ اور قربانی کا احساس ہے، محسن لطیف کو آج بھی نواز شریف اور ان کی اہلیہ کی قربت حاصل ہے۔محسن لطیف پی پی 147 سے دو مرتبہ ایم پی اے منتخب ہو چُکے ہیں لیکن ضمنی الیکشن میں انہیں ہار کا سامنا رہا جس کی وجہ خاندانی سیاست اور میاں بردران کے سیاست کو لے کر اندرونی اختلافات ہیں۔میاں یوسف عزیز ، محسن لطیف کے سگے ماموں ہیں، میاں یوسف لطیف نواز شریف اور شہباز شریف کے بہنوئی بھی ہیں۔محسن لطیف کی والدہ شہناز لطیف کا اپنے بھائی یوسف عزیز اورمیاں برداران کا ان کے بہنوئی میاں یوسف عزیز کے ساتھ جائیداد کا تنازعہ چل رہا ہے، جس کے بعد معاملہ عدالتو ں تک جا پہنچا۔ بعد ازاں اس معاملے سے خاندان دو دھڑوں میں منقسم ہو گیا۔میاں نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز کا جھکاؤ محسن لطیف، شہناز لطیف اور میاں لطیف کی جانب ہے جبکہ میاں شہباز شریف صاحبزادے میاں یوسف عزیز کے ساتھ ہیں کیونکہ میاں شہباز شریف کے خاندان کا میاں یوسف عزیز کے ساتھ ایک دوسرا تعلق بھی ہے جو کہ پہلے تعلق کو مزید مضبوط بناتا ہے۔ حمزہ شہباز پنجاب میں حلقوں کی سیاست کے انچارج ہیں، یہ خاندان میں محسن لطیف کے مخالف دھڑے کے ساتھ ہیں جس کے سبب خاندانی لڑائی کا نقصان محسن لطیف کے حلقے کے لوگوں کو پہنچنا شروع ہو گیا۔جس کے بعد اڑھائی برسوں میں پی پی 147 میں کوئی ترقیاتی کام نہ ہو سکا، محسن لطیف کو اسٹریٹ لائٹس اور خراب بلب سے لے کر ہر چھوٹی چیز کے لیے حمزہ شہباز سے رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ لیکن رابطے کے باوجود کوئی کام نہ ہوتا تھا۔ محسن لطیف حلقے کے کوئی بھی کام لے کر جاتے تو وہ نہیں ہو پاتا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ محسن لطیف نے حلقے کی عوام سے چھُپنا شروع کر دیا۔الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن نے این اے 122اور پی پی 147 کا انتخاب لڑنے کا ارادہ کیا تو حمزہ شہباز محسن لطف کی بجائے یہ ٹکٹ حافظ نعمان کو دینے کے خواہاں تھے جو کہ پی پی 148میں مسلم لیگ ن کے تگڑے امیدوار ہیں۔2013ء میں ن لیگ نے ان کی جگہ اختر رسول کو ٹکٹ دے دیا تھا۔ حمزہ شہباز اس بار انہیں پی پی 147 سے الیکشن لڑوانا چاہتے تھے لیکن میاں نواز شریف نے آمادگی ظاہر نہ کی۔ ن لیگ کے لاہوری گروپ نے سردار ایاز صادق کو یہ حلقہ اپنے صاحبزادے کے حوالے کرنے کا بھی مشورہ دیا لیکن یہ مشورہ بھی نہ مانا گیا اور مجبوری کے عالم میں ٹکٹ محسن لطیف ہی کو مل گیا۔لیکن محسن لطیف کا ہارنا تو طے تھا، اور ہارنے کے بعد شاید وہ کبھی اب سیاست میں دوبارہ قدم نہیں رکھیں گے۔اس کی وجہ 2018ء کے انتخابات میں حمزہ شہباز کی جڑیں مزید مضبوط ہو جانا ہے۔جس کے بعد یہ ٹکٹ سردار ایاز صادق کے صاحبزادے کو سونپ دیا جائے گا۔ حمزہ شہباز اپنے خاندانی حریف پر کبھی بھی مہربان نہیں ہوں گے۔لہٰذا اگر ایاز صادق کی این اے 122 میں کارکردگی اورپی پی147 میں خاندانی سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو دونوں جگہوں پر ہر کوئی افسوس کرنے پر مجبور ہو جائے گا