- الإعلانات -

بھار ت کا مکرو چہرہ ایک بار پھر کھل کر سامنے آگیا.

ممبئی : پاکستانی ہونا گناہ بن گیا ،بھارتی انتہا پسندوں نے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے بھارت جانے والے مسلمان پاکستانی خاندان کو ممبئی کے ہوٹلوں میں ٹھہرانے سے انکار کردیا اس اقدام کے بعد تین خواتین سمیت چارارکان پر مشتمل خاندان کو سخت سردی میں رات کھلے آسمان تلے فٹ پاتھ پر گزارنا پڑی ۔بھارتی میڈیا کے مطابق کراچی سے تعلق رکھنے والا خاندان حاجی علی درگاہ کی زیارت کرنے کی غرض سے بھارت پہنچا تھا جس نے جودھپور میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہائش اختیار کی ۔بعد ازاں پاکستانی خاندان جس میں تین خواتین اور ایک لڑکا شامل تھاکے افراد درگاہ کی زیارت کرنے ممبئی آگئے جہاں سے واپسی پر جب انھوں نے ممبئی شہر کے ہوٹل میں رات گزارنا چاہی تو کسی بھی ہوٹل نے انھیں پاکستانی شناخت کرکے ٹھہرانے کی جگہ نہیں دی جس پر سخت سردی میں پاکستانی فیملی کو رات فٹ پاتھ کر گزرنا پڑی ۔خاندان کی رکن نور بانو کا کہنا ہے کہ درگاہ حاجی علی کی زیارت کے بعد انھوں نے کسی بھی ہوٹل میں رہائش نہ ملنے کے بعد واپس جودھپور جانے کی کوشش بھی کی تاہم وہ اس میں ناکام رہے ،ریلوے اسٹیشن پر آر پی ایف اہلکاروں نے ہمیں روک کربتایا کہ انتی رات گئے کوئی بھی ٹرین جودھپور نہیں جائے گی آپ لوگ کل آئیں۔نور بانو نے بتایا کہ جب کوئی دوسری صورت نہ بچی تو ہم لوگوں نے سخت سردی میں رات فٹ پاتھ پر ہی گزاری ہمارا بھارت آنے کا یہ تجربہ انتہائی تلخ رہا ۔بھارتیوں کے اس رویے سے بہت مایوسی ہوئی ۔انکا کہنا تھاکہ ہمیں یہ لمحات ہمیشہ یاد رہیں گے ۔واضح رہے کہ انتہا پسند بھارت میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔چند روز قبل ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے پاکستانی گلوکار غلام علی کو ممبئی میں شو کرنے سے روک دیا تھا اور سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کے منتظم کو تشد د کا نشانہ بنایا اور انکے چہرے پر سیاہی پھینک دی ۔