- الإعلانات -

بنی گالا میں عمران خان کے گھر کی تعمیرات غیر قانونی قرار

سی ڈی اے نےبنی گالہ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کےگھرکی تعمیرات کو غیرقانونی قرار دے دیا۔

کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا بنی گالا میںگھر غیر قانونی ہے، اسے گرا دیا جائے۔

عمران خان کے گھر کے اردگرد بنی گالا کی 121 دیگر گھریلو اور کمرشل عمارتیں بھی غیر قانونی قراردے دی گئی ہیں۔

بنی گالا میں دفعہ 144 نافذ کرکے درختوں کی کٹائی اور غیر قانونی تعمیرات و تجاوزات کی سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

بنی گالہ میں غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات پر سپریم کورٹ کو عمران خان کے خط پر چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا اور وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے سے عدالت نے رپورٹ مانگی تو جواب میں سی ڈی اے نے 122 رہائشی اور کمرشل عمارتوں کی فہرست جمع کرا دی، جس میں درخواست گزار عمران خان کے گھر کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ریگولیشن 1992ء کے مطابق اسلام آباد کے زون تھری اور فور میں سی ڈی اے سے منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیز کے علاوہ کسی بھی قسم کی تعمیرات پر پابندی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ راول ڈیم اور اس سے ملحقہ دو کلومیٹر کا علاقے میں تعمیرات پر بھی پابندی ہے اور عمران خان کی بنی گالا میں رہائشگاہ آئی سی ٹی ریگولیشن کی خلاف ورزی ہے۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق زون تھری میں راول ڈیم اور اس سے ملحقہ علاقے کو نیشنل پارک ڈیکلیئر کیا گیا ہے، وائلڈ لائف آرڈیننس 1979 ء کے مطابق بھی نیشنل پارک اور راول ڈیم کے اطراف میں تعمیرات پر پابندی ہے۔

سی ڈی اے نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ سی ڈی اے کی درخواست پر ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا ہے اور تمام غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کی بھی ضرورت ہے۔

سوال یہ ہے کہ سی ڈی اے عمران خان کی درخواست پر از خود نوٹس کے بعد کیوں جاگا؟بنی گالہ میں سینکڑوں گھر اور کالونیاں کیا اچانک بن گئیں؟جواب تو سی ڈی اے کو ہی دینا ہو گا۔