- الإعلانات -

عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں، سرتاج

انہوں نے کہا کہ بھارتی شہری عظمیٰ کے معاملے میں قانونی پیچیدگیاں دور ہوتے ہی سفری دستاویزات مہیا کر دی جائیں گے ۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت کی جانب سے عالمی ادارہ انصاف میں دی گئی درخواست کا جائزہ لے رہے ہیں، دفتر خارجہ جلد ہی اُس پر اپنا موقف دے گا۔

مشیر خارجہ نے8 جون کو شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں نوازشریف اور نریندر مودی کی ملاقات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے ملاقات کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

بھارتی شہری عظمیٰ کے معاملے پر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ عظمیٰ کے سفری دستاویزات کا مسئلہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور ایران دُشمن نہیں بلکہ دوست ممالک ہیں، ایران کے معاملے پر بارڈر کمیشن تشکیل دے دیا ہے جس کا پہلا اجلاس اسی ماہ ہو گا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاک افغان مذاکرات کے لئے تیسرے فریق کی شرط نہیں رکھی، چمن میں پاک افغان سرحد جزوی طور پر مریضوں کی آمد و رفت کے لئے کھول دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایس اور افغان سیاسی قیادت کا دورہ عید کے بعد متوقع ہے، امید ہے اس کے بعد حالات بہتر ہوں گے۔

دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف کاکا کہنا ہے کہ بھارت کا کُلبھوشن کیس پر عالمی عدالت انصاف سےرجوع کرنا اپنی ریاستی دہشت گردی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن جادیو کو پاکستان میں قومی سلامتی کے منافی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر سزا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے را ایجنٹ کلبھوشن جادیو کی سزاکیخلاف عالمی عدالت انصاف سےرجوع کرتے ہوئے خط میں لکھا ہے کہ ہمیں کلبھوشن جادیو تک قونصلر رسائی نہیں دی گئی اور قونصلر رسائی نہ دینا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔

بھارت نے موقف اختیار کیا کہ ایک پریس ریلیزکےذریعے کلبھوشن کی سزائے موت کا اعلان کیا گیا، کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد فوری روکا جائے۔