- الإعلانات -

معاشی ترقی کی شرح 5فیصد سے بڑھ گئی ، وزیر خزانہ

اسلام آباد میں پری بجٹ پریس کانفرنس میں اقتصادی جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستانی معیشت 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، زر مبادلہ کے ذخائر 16 اعشاریہ 15 ارب ڈالر ہوگئے ہیں جب کہ 10 سال میں پہلی مرتبہ معاشی ترقی کی شرح 5 فیصد سے بڑھ کر 5 اعشاریہ 3 فیصد ہوگئی ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ فی کس سالانہ آمدنی 1629 ڈالر رہی اور پاکستان ایشیا کی بہترین اسٹاک مارکیٹ میں شامل رہا۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 19 اعشاریہ 53 فیصد ہے، زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 3 اعشاریہ 46 فیصد رہی اور صنعتی شعبے کی ترقی 5 فیصد رہی جب کہ خدمات کے شعبے نے 5 اعشاریہ 98 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔

وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ توانائی کی پیداوار میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اضافہ ہوا جب کہ بجلی اور گیس کی ترسیل میں 3 اعشاریہ 4 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اگلے سال کے لیے ترقی کا ہدف 6 فیصد مقرر کرنے کا امکان ہے، برآمدات 21 اعشاریہ 76 ارب ڈالر رہیں گی۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ زرعی شعبے پر حکومت کی توجہ اگلے سال بھی مرکوز رہے گی، زرعی ترقی کی شرح میں وزیراعظم کے کسان پیکیج نے اہم کردار ادا کیا، یوریا کھاد کی قیمت کم کرکے فی بوری کی قیمت 1400 روپے پر لے گئے جب کہ ڈی اے پی کی فی بوری کی قیمت 2500 روپے تک کردی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ سوا7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، 10 ماہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 1 ارب 73 کروڑ ڈالر رہی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ سال کے آخر تک براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 2 ارب 58 کروڑ ڈالر کا تخمینہ ہے۔