- الإعلانات -

پارلیمنٹ کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، صدر ممنون

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ قومی ترقی کو ناکام بنانےکی ہر سازش کو ہم س نے مل کر ناکام بنانا ہے اور اس کے لیے معاشرے کا ہر طبقہ تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالے۔

صدر نے بتایا کہ توانائی بحران کی وجہ سےمعیشت متاثر ہوئی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بلند اور افراط زر کم ترین سطح پر ہیں ، آئندہ بجٹ میں ترقیاتی بجٹ میں تین گنا اضافہ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ برآمدات کے شعبے میں دفاعی صنعت کی کارکردگی اچھی رہی، میٹرو اور گرین لائن کا اجرا قابل تحسین ہے۔

صدر ممنون حسین نے بتایا کہ خارجی سطح پر پاک چین دوستی مثالی حیثیت رکھتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے خطے میں حالات خراب کئے، ہم بھارت کے ساتھ تمام مسائل بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

ممنون حسین کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کیا جائے، کشمیریوں پر بھارتی قابض فوج کی وحشیانہ کارروائیاں جاری ہیں اور ہم ان کی ہر سطح پر سیاسی، اخلاقی، سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کے بغیر استحکام پیدا نہیں ہو سکتا۔

صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن شورشرابا کیا اورنعرے بازی کی، جس کے بعد اپوزیشن اراکین ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

اس موقع پر اپوزیشن رہنماؤں نے صدر کے خطاب سے پہلے بولنے کی اجازت کا مطالبہ کیا جس کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے ایوان میں گو نواز گو کے نعرے لگائے اور صدر کی تقریر کے دوران سیٹیاں بجاتے رہے۔

بعد ازاں اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرکے باہر چلے گئے۔