- الإعلانات -

شیخ رشید کے ساتھ جھگڑے کا معاملہ

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس میں شیخ رشید کے ساتھ نور اعوان کے جھگڑے کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔

اسپیکر ایاز صادق نے نور اعوان کے پارلیمنٹ میں داخلے کا مکمل ریکارڈ اور ان کو پاس جاری کرنے پر ڈپٹی اسپیکر چیمبر سے بھی وضاحت طلب کرلی۔

ذرائع کے مطابق نور اعوان کے پارلیمنٹ ہاؤس میں کس کے ہمراہ داخل ہوئے تھے اس کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا ہے۔

اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا جس میں خورشید شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری حکومتیں عوام کے ووٹ سے آتی ہیں اور ریاست کو چلانے کا طریقہ کار آئین میں دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ کے تابع ہوتی ہے، پاکستان جن حالات میں آج کھڑا ہے وہ آمریت کے فیصلوں کی وجہ سے ہیں، آج ہم خوش فہمی میں تھے کہ انتقال اقتدار کرکے جمہوریت کو مضبوط کیا۔

خورشید شاہ نےگذشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کا تقدس اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ایوان کے محافظوں کو قصائی نہیں بننا چاہیے۔

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے سوال کیا کہ کیا آپ نے چیئر کو قصائی کہا ہے؟ جس پر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ میں نے کہا آج کل یہ لفظ عام ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سب سے پہلے دیکھا جائے کہ کل غیرمتعلقہ شخص کو پارلیمنٹ میں لیکر کون آیا، پاس ڈپٹی اسپیکر کے دستخط سے جاری کیا گیا اور متعلقہ شخص کو حراست میں لینے کے کچھ دیر بعد چھوڑ دیا گیا۔

اس موقع پر خورشید شاہ نے نور اعوان کی وزیراعظم، وزیرداخلہ اور وزیرخزانہ کے ساتھ تصاویر ایوان میں پیش کیں، جس پر اپوزیشن ارکان کے ایوان میں شیم شیم کے نعرے لگائے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز پارلیمنٹ کے باہر اُس وقت عجیب صورتحال دیکھنے میں آئی تھی جب ایک شخص عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید سے الجھ پڑا اور ان سے 22 لاکھ روپے ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

قومی اسمبلی کے گیٹ نمبر 1 کے قریب ایک شخص نے شیخ رشید کو روکا اور دعویٰ کیاتھا کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے اُن سے گاڑی خریدی لیکن 22 لاکھ روپے ادا نہیں کیے۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نوراعوان کی تصویر نہال ہاشمی کے ساتھ بھی ہیں جنہوں نے کہا تھا ہم زمین تنگ کردیں گے۔

انھوں نے کہا کہ نور اعوان کی وزیراعلی پنجاب اور صدرمملکت کے ساتھ بھی گروپ فوٹو موجود ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ کسی کا فوٹو ضیاء الحق کے ساتھ بھی ہے، جس کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور ایک دوسرے پر الزامات لگائے گئے۔

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے عابد شیرعلی کو خاموش رہنے کی ہدایت کی جو خورشید شاہ کے خطاب کے دوران انھیں جواب دے رہے تھے، تاہم عابد شیر علی نے اسپیکر کے منع کرنے کے باوجود اپوزیشن پر تنقید جاری رکھی۔

اس پر خورشید شاہ نے کہا کہ جب عابد شیرعلی کے ساتھ پرویز مشرف کے دور میں زیادتی ہوئی تھی ہم یہاں کھڑے تھے، عابد شیرعلی کے والد کے ساتھ بھی جب زیادتی ہوئی تو ہم کھڑے تھے۔   ایس سی او

ے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نرنندرا مودی وزیراعظم سے سامنے ملتے ہیں یا چھپ کر ہمیں کچھ پتہ نہیں، ہندوستانی وزیراعظم بیشک نواز شریف سے ان کی فیملی کا حال پوچھتے مگر یہ کشمیریوں کی بات کرتے۔

خورشید شاہ نے کہا کہ نواز شریف کو کشمیریوں کی بات کرنی چاہیے تھی نہ کہ آپ کی فیملی ٹھیک ہے کا پوچھتے۔

اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ شیخ رشید کو روکنے والے شخص کے خلاف کل ہی ایف آئی آردرج ہوگئی تھیں تاہم اسپیکر نے ہنگامہ آرائی کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس 15 منٹ کے لیے ملتوی کردیا اور اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ اور وزرا کو اپنے چیمبر میں بلالیا۔