- الإعلانات -

سیاسی منظر نامہ اور مریم نوازکا بلاوا۔ کالم ایس کے نیازی

سیاسی منظر نامہ اور مریم نوازکابلاوا

حلقہ احباب

ایس کے نیازی

یوم عید جسے عرف عام میں خوشیوں کا دن کہا جاتا ہے۔ اس سال عیدالفطر سن عیسوی2017ءہجری1438 بڑے المناک حادثات و واقعات کے ساتھ گزری ہے ۔ عید کے مسرت موقع پر پارا چنار، کوئٹہ اوراحمد پور شرقیہ کے حادثات نے پوری پاکستانی قوم کو رنجیدہ کردیاتھا لیکن اس کے باوجود پاکستانی قوم کا عزم و ہمت اورجوش و جذبہ بہر طور غالب رہا۔ علاوہ ازیں سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی مطلع گرد آلود اور دلخراش نظر آیا۔ چشم فلک نے دیکھا کہ جے آئی ٹی نے عید کی چھٹیوں میںبھی اپنا کام تیزی سے جاری رکھا اس کا ایک پہلو قانون کی پاسداری اور قانون کی بالا دستی ہے۔ دوسری جانب وضع داری اور اخلاقی پہلو اور اس کے جملہ تقاضے ہیں۔مریم نواز وزیراعظم کی بیٹی ہونے کے ناطے دختر پاکستان ہیں اور دوسری جانب وہ میرے درینہ دوست کیپٹن (ر) محمد صفدر کی اہلیہ ہیں۔ کیپٹن(ر)صفدرکےساتھ میرے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، ہمارے پاکستانی معاشرے میں عورت کو انتہائی باعزت مقام حاصل ہے کسی بھی شریف اور معزز خاتون کا کچہریوں اورعدالتوں میں جانا معیوب سمجھاجاتا ہے لیکن کیا کیا جائے معاشرتی تقاضے اور قانونی تقاضے ایک دوسرے سے متصادم ہیںبات جب انصاف اورقانون کی آتی ہے تو قانون ہر قسم کے اخلاقی تقاضوں پرقانون غالب آجاتا ہے، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر اور قابل افسوس ہے کہ کچھ لوگ جے آئی ٹی کو براہ راست اور سپریم کورٹ کو بلواسطہ حدف تنقید بنا رہے ہیں۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کا قائم کردہ ہے اس پر تنقید کرنا یا اس کی توہین کرنا سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف ہے لیکن چند مفاد پرست افراد موجودہ وقت سے فائدہ اٹھانے کے چکرمیں وہ کچھ کررہے ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ بہتی گنگا میں صرف ہاتھ ہی نہیں بلکہ پاﺅں بھی دھو لئے جائیں ایسے ہی نام نہاد خیر خواہوں نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کو یہاں تک پہنچا دیا ہے۔ آج اگر وزیراعظم نواز شریف اور ان کا خاندان بشمول مریم نواز اور کیپٹن صفدرعدالت کا احترام کرتے ہوئے جے آئی ٹی میں پیش ہورہے ہیںتو ہم سب کو بھی چاہیے کہ ہم قانون کا احترام کریں اور کسی بھی قسم کی رائے زنی اور با الفاظ دیگر جے آئی ٹی اور عدلیہ پر انگشت نمائی سے پرہیز کریں اور قانون کا احترام کرتے ہوئے منطقی انجام یعنی فیصلے کا تحمل کے ساتھ انتظار کریں ناکہ جے آئی ٹی جو کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کاقائم کردہ ہے اس پر انگشت نمائی کرنے سے گریز کریں۔میری ذاتی ہمدردیاں مریم نواز کے ساتھ ہیں لیکن جہاںتک معاملہ انصاف و قانون کا ہے تو انصاف کواللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا ہے اور قانون کے سامنے سرتسلیم خم ہیں۔ میں نے ہمیشہ قانون کا احترام اور قانون کا پرچار کیا ہے۔مزید یہ کہ میرے پانچوں اخبارات اور ٹی وی چینل نے ہمیشہ قانون کے علم کو بلند کیا ہے ۔قانون کا احترام آئین پاکستان اور ریاست پاکستان سے محبت کادوسرا نام ہے ۔بلاشبہ جو ہونا ہے وہ تو ہوکر ہی رہے گا۔کسی بھی شخص کے کسی بھی منفی کردارو عمل سے کسی کو کوئی فائدہ نہیںپہنچے گا بلکہ نقصان ضرور پہنچ سکتا ہے۔ اس موقع پر دوست نما دشمن اپنی اچھل کود سے حالات کو مزید خراب کرنا چاہتے ہیں میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وزیر اعظم کے ارد گرد کے تمام لوگ غلط ہیں بلکہ میری مراد ان چند مفاد پرست غیرسرکاری مشیروں کی ہے جو ہر دور میں ہر کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں بلکہ کشتی سے لٹک جاتے ہیں لیکن جب وہ دیکھتے ہیں کہ اب کشتی ڈوب رہی ہے تو انتہائی تیزی کے ساتھ چھلانگ لگا لیتے ہیں آج بھی یہی چند لوگ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ چمٹ کر اپنا مطلب نکالنے ،سرکاری اخراجات پر فضائی سفر کرنے کے چکر میں وزیر اعظم کو چکر دے رہے ہیں، جبکہ ان حالات میں تحمل فہم و فراست اور حکمت عملی کی اشدضرورت ہے، ہمیں اپنے ملک کے ہمہ گیر جملہ صورتحال کا بخوبی جائزہ لینا ہوگا ،ہرقسم کے جذباتی اور منفی رویے سے گریز کرنا ہوگااور قوم کو تقسیم ہونے اور متصادم ہونے سے بچانا ہوگا۔ جہاں تک بات شریف خاندان کے احتساب کی ہے تو اس ضمن میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سب سے بڑی طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے وہی ہوگا جو وہ چاہے گا اور ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ باخبر لوگ جانتے ہیں کہ میں نے آج تک اپنے مشاہدے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ سیاسی بصیرت کی روشنی میں جو کچھ کہا ہے اکثر ویسا ہی ہوا ہے۔میں جو بات کہتا ہوں وہ نا تو کوئی خدائی دعویٰ ہوتا ہے اور نہ ہی میں اللہ کا ولی ہوں البتہ میں اپنے مشاہدے ،جائزے اورتجزیے کے مطابق بات کرتا ہوں۔ سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے دور سے لے کر آج تک اور میاں محمد نوازشریف کے وزیراعلیٰ سے وزیراعظم بننے تک اور میاں منظوروٹو کے وزیراعلیٰ بننے کے مراحل کو میں نے بڑے قریب سے دیکھا ہے ۔میرا ان تمام مراحل میں کیا کرداررہاہے ؟اس پر میں ایک مفصل کتاب لکھ رہا ہوں ۔میںنے اب تک جو پیش گوئیاں اورنشاندہیاں کیں ویسا ہی ہوا۔ آج بھی میں اشارے دے رہا ہوں جو صاحب فہم و فراست ہیں وہ بخوبی سمجھ رہے ہیں اور اتفاق کررہے ہیں جو لوگ نہیں سمجھ پارہے ان کے بارے میں کیا کہوں ؟کچھ لوگ تو نوشتہ دیوار کو بھی نہیں پڑھ سکتے۔ میں موجودہ حالات و واقعات کے تقاضوں اورآنے والے وقت کے بارے میں بھی مزید آگاہ کرنے کی کوشش کروں گا ،کاش کوئی سمجھنے کی بھی کوشش کرے۔

ہمیں اپنے آج کے حالات کو قومی و بین الاقوامی تناظر میں دیکھنا ہوگا، ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے وہ پاکستان کو مستحکم اور قوم کو متحد نہیں دیکھنا چاہتا اس مقصد کیلئے وہ انتہائی گھناﺅنے منصوبوں پر کام کررہا ہے، پاک فوج کی طرح ملک کے ہر شہری کو باخبر اور متحد ہوکر رہنے کی ضرورت ہے۔ یہ ملک ہے تو سب کچھ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس ملک اور قوم کو تاقیامت سلامت اور خوشحال رکھے۔اس مرتبہ میں نے عید الفطر راولپنڈی،اسلام آبادمیںگزاری ،اسلام آباد وفاقی دارالحکومت ہے اورسپریم کورٹ بھی یہیں واقع ہے جبکہ راولپنڈی بھی انتہائی اہمیت کا حامل شہر ہے ۔عید کے موقع پر اسلام آباد اور راولپنڈی افواہوںکی زد میں رہے ۔مختلف مقامات پر مختلف انداز میں مختلف نوعیت کی باتیں ہوتی رہیں ۔کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار ،اسحاق ڈار نے علیحدہ گروپ بنا لیا ہے ۔کچھ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنی علیحدہ سیاست کررہے ہیں ۔دوسری جانب استاد محترم کی موجودگی میں احسن اقبال کی وزیراعظم سے لمبی لمبی ملاقاتیں کچھ اور پیغام دے رہی ہیں ۔کیا ہے ؟کیا نہیں ،کیا ہونا ہے ،کیا نہیں ہونا ،ان سب سوالوں کا معقول جواب ایک ہی ہے کہ قانون کی بالادستی (رول آف لاء)ہی ہونا چاہیے اور رول آف لاءہی ہوگا ۔قانون کی دنیا میں یہ بات ایک مسلمہ اصول کے طورپر بطورحوالہ پیش کی جاتی ہے کہ ”آسمان گرتا ہے تو گرے قانون جو کہتا ہے وہی ہونا چاہیے “۔اللہ تعالیٰ اس مملکت خداداد پاکستان اوراس کے عوام کا حامی وناصر ہو ۔

colam-Khan-Sab-1-768x792