- الإعلانات -

وزیر اعظم اور ان کے بچوں کیخلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنیکی سفارش

مریم نیلسن اور نیسکول کی بینیفشری مالک ، تین نئی آف شور کمپنیوں سے لندن میں مہنگی جائیدادیں خریدے جانے کا انکشاف

اسلام آباد  وزیر اعظم ، صاحبزادوں کی آمدنی اور اثاثوں میں تضاد ہے ، جے آئی ٹی نے نواز شریف ، حسین اور حسن نواز کیخلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کر دی ، منی ٹریل پر بھی عدم اطمینان کر دیا ، مریم نواز کو نیلسن اور نیسکول کی بینیفشری مالک قرار دے دیا ۔ رپورٹ میں تین نئی آف شور کمپنیوں سے لندن میں مہنگی جائیدادیں خریدے جانے کا انکشاف بھی کیا گیا ہے ۔ پاناما جے آئی ٹی کی دو سو چھپن صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات کئے گئے ہیں ۔

وزیر اعظم نواز شریف ، حسین نواز ، حسن نواز کی ظاہر کردہ آمدنی اور اثاثوں میں تضاد پائے جانے پر ٹیم نے منی ٹریل پر اظہار عدم اطمینان کر دیا ۔ جے آئی ٹی نے وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادوں کیخلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کی سفارش کر دی ۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ، حسین نواز اور حسن نواز کا رہن سہن ، ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتا ، جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی مزید تین آف شورکمپنیز کا انکشاف کر دیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا الانا سروسز ، لینکن ایس اے اور ہلٹن انٹرنیشنل سروسز برطانیہ میں شریف خاندان کے کاروبار سے منسلک ہیں جو برطانیہ میں موجود کمپنیوں کو رقم فراہم کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہیں جبکہ پیسہ برطانیہ ، سعودی عرب ، یو اے ای اور پاکستان میں بھی گھومتا رہا ۔

تحقیقات میں کہا گیا ہے آف شور کمپنیز کے پیسے سے برطانیہ میں مہنگی ترین جائیدادیں خریدی گئیں ۔ جے آئی ٹی نے مریم نواز کو نیلسن اور نیسکول کی بینیفشری مالک قرار دیدیا ۔ جے آئی ٹی کا کہنا ہے انیس سو اسی اور نوے کی دہائی میں بنائی گئی اتفاق شوگر ملز ، اتفاق ٹیکسٹائل ، حمزہ سپننگ میں نواز شریف اور ان کے بچوں کے شیئرز تھے ۔ یہ کمپنیاں اس وقت بنیں جب نواز شریف عوامی عہدے پر تھے اور ملکی و غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرض لیکر بنائی گئیں ۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بچے اثاثوں کے بارے میں مطلوبہ معلومات دینے میں ناکام رہے ۔

نواز شریف اور حسین نواز فنڈز بطور تحائف اور قرض وصول کرتے رہے مگر تحفے اور قرض کی وجوہات سے مطمئن نہیں کرسکے ، برطانیہ میں قائم کمپنیاں گھاٹے میں چل رہی تھیں اس لئے یہ بات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے کہ لندن پراپرٹی کا نتیجہ یوکے کی کمپنیاں ہیں ۔ جے آئی ٹی کا کہنا ہے فنڈرز اکٹھا کرتے وقت زیادہ تر کمپنیز نقصان میں جا رہی تھیں ، ان میں محمد بخش ٹیکسٹائل ملز ، حدیبیہ ملز ، حدیبیہ انجینئرنگ ، حمزہ بورڈ ملز ، مہران رمضان ٹیکسٹائل ملز شامل ہیں ۔ جے آئی ٹی نے کہا ہے متحدہ عرب امارات نے طارق شفیع کا تمام ریکارڈ جھٹلا دیا اور اہلی سٹیل ملز کی فروخت کا معاہدہ جعلی قرار دیا ہے ۔ یو اے ای حکام کا کہنا ہے گلف سٹیل ملز کی انیس سو اسی میں پچیس فیصد شیئر فروخت کا کوئی معاہدہ موجود ہی نہیں ۔