- الإعلانات -

پاناما کیس میں جے آئی ٹی رپورٹ حتمی نہیں، فیصلہ آنا باقی ہے،اسحاق ڈار

ن لیگ کے مشاورتی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق اور بیرسٹر ظفر اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کسی کمپنی میں وزیراعظم کا نام نہیں ہے تاہم صبح سے نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں بہت خامیاں اور غلطیاں ہیں جبکہ اس کے بعض کاغذات پر دستخط تک موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ حتمی نہیں ہے جبکہ ماہرین اس کا مطالعہ کررہے ہیں جبکہ وزیراعظم کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس موقع پر سعد رفیق نے کہا کہ تفتیش کا اصول ہے جو مواد آپ کے پاس ہو وہ سامنے رکھیں اور سوال کریں تاہم یہاں اس کے برعکس ہوا۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ایسی رپورٹ مرتب کی جو افسانے ہیں جبکہ وزیراعظم صاحب کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ آف شور کمپنی کا جواب سپریم کورٹ میں دلیل کے ساتھ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ چیلنج کی جائے گی اور متبادل بیانیہ بھی دیا جائے گا۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اس سے قبل وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت وزیراعظم ہاؤس میں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کا غیر رسمی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا، شہباز شریف، مریم نواز، اٹارنی جنرل اور دیگر قانونی مشیر شریک ہوئے۔

حکومت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو پاناما عملدرآمد بینچ کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اجلاس کے دوران جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد حکومتی جواب تیار کرنے پر مشاورت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ پاناما عملدرآمد بینج کی 17 جولائی کو ہونے والی سماعت سے قبل جے آئی ٹی رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ وزیراعظم نواز شریف نہ تو عہدے سے استعفیٰ دیں گے اور نہ ہی اسمبلی توڑیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سیاسی مخالفین کو مؤثر جواب دینے کی حکمت عملی کی تیاری پر مشاورت کی گئی جب کہ وزیراعظم نے قانونی ماہرین کو پاناما عملدرآمد بینچ کی سماعت سے قبل سپریم کورٹ سے رجوع کی تیاری کی بھی ہدایت کی۔