- الإعلانات -

پیرس حملوں کےنتیجےمیں کوئی پاکستانی گرفتار نہیں، قاضی خلیل اللہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ پیرس حملوں کے نتیجے میں کسی پاکستانی کو گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ داعش کے خلاف عالمی کوششوں میں پیرس حملوں کے بعد تیزی آئی۔ ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ ملک میں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی کر کی جارہی ہے، داعش کے خطرے سے آگاہ ہیں لیکن اس وقت اس کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں اور ملک میں اس کا سایہ بھی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اقوام عالم سے تعاون کر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف ہماری قربانیوں کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے جبکہ دہشت گردی کو کسی مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ داعش کے خلاف عالمی کوششوں میں پیرس حملوں کے بعد تیزی آئی، پیرس حملوں کے نتیجے میں کسی پاکستانی کو گرفتار نہیں کیا گیا جبکہ ہم اسلام مخالف جذبات کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے جوہری معاملات کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ امتیازی پالیسی کا نتیجہ ہے، جنوبی ایشیا کے ایک ملک کو امتیازی طور پر یہ ٹیکنالوجی دینا خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔