- الإعلانات -

زین قتل کیس ملزمان کی رہائی پر سپریم کورٹ کاازخودنوٹس کا فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے زین قتل کیس کے ملزمان کی رہائی پر ازخود نوٹس کیس کا فیصلہ سنادیاہے اور پراسیکیوٹرجنرل پنجاب کو حکم دیاہے کہ صوبائی حکومت کی اپیل پر ہائیکورٹ کے فیصلے سے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیاجائے اور اگرضرورت پڑی تو ازخود نوٹس کیس کی کارروائی پھر شروع کی جائے گی۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے 16نومبر کو محفوظ کیاگیامختصرفیصلہ سنایااور قراردیاہے کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے تک سپریم کورٹ میں معاملہ زیرالتوا رہے گا اور ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کی جائے گی۔ یادرہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے عدالت عظمیٰ کو بتایاگیاتھاکہ ملزمان کی رہائی پر لاہورہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے جو زیرسماعت ہے۔ عدالت نے گزشتہ سماعت پر زین کے اہل خانہ کو طلب کرکے چیمبر میں بیانات ریکارڈ کیے تھے اورمقتول کے ورثاءکو ہدایت کی گئی تھی کہ اب دوبارہ ان کے آنے کی ضرورت نہیں ، فیصلہ گھر پہنچادیاجائے گا۔ یادرہے کہ سابق وزیرمملکت صدیق کانجو کے بگڑے صاحبزادے مصطفی کانجو نے کیولری گرانڈ لاہور کے علاقے میں گاڑی سے موٹرسائیکل کی ٹکر کے بعد اپنے گارڈزکے ہمراہ فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتاردیاتھا اور پھر ملزم لاہور سے فرار ہوگیا تاہم بعد میں خوشاب سے پکڑاگیاتھا۔ کیس آگے بڑھاتو مدعی مقدمہ اپنے بیانات سے منحرف ہوگئے تھے اور میڈیا اطلاعات کے مطابق مقتول کی والدہ نے سپریم کورٹ کو بتایاکہ وہ اکیلے طاقتو ر لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ، اس کیلئے جینا بھی دوبھر ہورہاہے اورانہوں نے کوئی صلح کی اور نہ ہی کسی قسم کا خون بہا وصول کیا۔