- الإعلانات -

عمران جیسی شخصیات کو نہیں مانتے، کردار ہونا چاہئے: عائشہ گلالئی

پاکستان تحریک انصاف کی باغی رہنماء عائشہ گلالئی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس قومی کیلئے قوم کی بہنوں بیٹیوں کی عزت کی اہمیت نہ ہو اس قوم کو زوال سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاتون ایم این اے ہوتے ہوئے یہ میرا فرض ہے کہ میں قوم کی بہنوں بیٹیوں کی عزت کی حفاطت کروں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیا جاتا ہے اور یہ صفائی صرف ظاہری صفائی نہیں ہوتی بلکہ روح اور کردار کی صفائی بھی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا جاری رکھوں گی، مجھے فخر ہے کہ میرے پاس ایک فورم ہے جس کے ذریعے میں قوم کی بیٹیوں کے حق کیلئے آواز اٹھاتی رہوں گی۔

عائشہ گلالئی کے خطاب کے دوران تحریک انصاف کی خواتین کی بھرپور نعرے بازی جاری رہی۔ تاہم تمام تر شورشرابے کو نظرانداز کرتے ہوئے انہوں نے اپنی نہایت جذباتی تقریر مسلسل جاری رکھی، بولیں مجھے پتا ہے کہ تحریک انصاف کی خواتین کونسے میرٹ پر آئی ہیں، ان کی سیاست کیوجہ سے ملک کے وزیر اعظم کو مبارکباد نہیں دے سکی تھی، ہمارے ملک کو تمام نعمتوں کے باوجود بے شمار چیلنجزکا سامنا ہے، خاتون ہو کر اپنا فرض ادا کر دیا ہے، اپنے ضمیر کے مطابق بات کی اور اس پر مجھے فخر ہے، افسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کمزور خواتین کا استحصال ہوتا رہتا ہے مگر ان کو کوئی نہیں پوچھ رہا، جب تک غریب خودکشی نہیں کرتا اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔

عائشہ گلالئی نے مزید کہا کہ کمزور خواتین کو پیغام دیا ہے کہ عزت اور غیرت پر کوئی کمپرومائز نہیں، عمران جیسی شخصیات کو نہیں مانتے، کردار ہونا چاہئے، دنیا کی کسی کتاب میں گالی گلوچ نہیں دی جاتی، والدین اپنے بچوں کو سنبھالیں، جیسے ہی کوئی پی ٹی آئی سے نکلتا ہے اسے سوشل میڈیا بریگیڈ گالیاں، تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دینے لگتا ہے۔ عائشہ گلالئی نے مزید کہا کہ میرے گھر والوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، میں نے حق بات کی، میری بہن سپورٹس وومن ہے، اس کو بھی پی ٹی آئی نے نہیں بخشا، میرے والد کو بھی پی ٹی آئی نے نہیں بخشا۔

عائشہ گلالئی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا ایک منسٹر میری بہن کے فلاحی ہسپتال کو مسمار کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے، یہ کیسا کلچر ہے؟ احتساب کمیشن میرے خلاف انتقامی کارروائی کر رہا ہے۔ عائشہ گلالئی نے اعلان کیا کہ کسی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں، بلاول بھٹو اور جماعت اسلامی کی شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرا ساتھ دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کام بڑی بڑی این جی اوز نہیں کر سکیں، وہ کام عائشہ گلالئی نے ایک دن میں کر دیا، کوئی انسان خدا نہیں ہوتا، مفادات کی بجائے کردار پر توجہ دیں، مہذب پاکستان چاہتی ہوں، جہاں گالی گلوچ نہ ہو، ایسا پاکستان چاہئے جہاں کسی کا استحصال نہ ہو

بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عائشہ گلالئی نے کہا کہ پی ٹی آئی میں تھی تو بہت اچھی تھی، پارٹی چھوڑی تو بری ہو گئی، خواتین اور انسانی حقوق کی تنظیمیوں نے ساتھ دیا، یہ ہے نئے پاکستان کی شروعات، میرے ساتھ معاملہ صرف غلط میسجز تک محدود تھا، بہت سی خواتین کیساتھ معاملات بہت آگے چلے جاتے ہیں جہاں معاف نہیں کیا جا سکتا، میں نے عمران سے کہا ہے کہ سب کے سامنے غلطی تسلیم کر لیں تو معاف کر دوں گی، جمہوری عمل سے نئے وزیر اعطم کا انتخاب خوش آئند ہے، پختونخوا کا احتساب کمیشن بڑی مچھلیوں کو کیوں نہیں پکڑتا؟

انہوں نے استفسار کیا کہ خیبر پختونخوا کی مثالی اور غیرسیاسی پولیس کے آئی جی سے پوچھتی ہوں کہ وہ کہاں ہیں؟ جب میری بہن کے زیرِتعمیر فلاحی ہسپتال پر پی ٹی آئی کا ایک وزیر اپنے مسلح جتھے سمیت حملہ آور ہوا تو اس وقت وہ پولیس کہاں تھی؟ پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو گالیاں سکھائیں، پارلیمانی کمیٹی کا خیرمقدم کرتی ہوں، میں نے کمزور خواتین کے حق میں آواز اٹھا کر انہیں ایک پیغام دیا ہے، میں میرٹ پر آئی ہوں، پی ٹی آئی کی دیگر خواتین کی طرح رشتہ داریوں کی بنیاد پر نہیں آئی، عزت اور غیرت کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، مجھے قتل کرنے اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دی گئیں، کردار اور اخلاق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کی یہ حالت ہے کہ ایک پائی رِکور نہیں ہو سکی، تحریک انصاف نے میرٹ کی دھجیاں اڑائیں۔