- الإعلانات -

نیب میں ذاتی کاروبار پر یہ پہلے ریفرنس ہیں، پہلی بار نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا

اسلام آباد: (دنیا نیوز) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو ذلیل و رسوا نہیں کرنا چاہئے، پاکستان میں آئین ٹوٹ جاتے ہیں، یہاں وزرائے اعظم کو پھانسی دی جاتی ہے، یہاں وزرائے اعظم ملک بدر کر دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی کے کام کا طریقہ کار سب کے سامنے تھا، ہمیں سب نظر آ رہا تھا، پانامہ کیس کو پہلے غیرسنجیدہ اور بے وقعت قرار دیا گیا، پٹیشن کو رد کیا گیا اور پھر اسی کیس کو آگے بڑھا دیا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ ہم نے رضا کارانہ طور پر خود کو احتساب کے لئے پیش کیا، مجھ سے میرے والد کے کاروبار کے حوالے سے بھی سوالات کئے گئے، لوگوں نے جے آئی ٹی میں پیش نہ ہونے کا مشورہ دیا، لوگوں نے کہا کہ وزیر اعظم آفس کے وقار پر سمجھوتہ نہ کریں لیکن اس وقت استعفیٰ اسلئے نہ دیا کہ میرے دل میں کوئی چور نہیں تھا، اس وقت استعفیٰ دے دیتا تو عوام سمجھتی کہ میرے دل میں کوئی چور ہے، یہ پہلے ریفرنس ہوں گے جو نیب میں ذاتی کاروبار کے حوالے سے ہوں گے، پہلی دفعہ نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جج صاحب ٹرائل بھی اپنی مرضی کا کرائیں گے اور فیصلہ بھی، پھر اپیل بھی ان کے پاس ہی جانی ہے، یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ کیا عوام کے مینڈیٹ کی کبھی عزت کی گئی ہے؟ کیا عوام کے ووٹ کو اسی طرح دھتکارا جاتا رہے گا؟ ان تمام سوالوں کے جواب ڈھونڈنا ہوں گے، سوالوں کے جواب ڈھونڈنا سول سوسائٹی، دانشوروں اور میڈیا کا فرض بھی بنتا ہے۔ نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ملک کے بڑے بڑے معاملات سیاستدانوں نے ہی حل کئے ہیں، ملک کیلئے بڑے اہم اقدامات بھی سیاستدانوں نے اٹھائے ہیں، 71 کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو سنبھالا، جمہوری حکومت نے پاکستان میں کبھی جنگ میں حصہ نہیں لیا، سیاستدانوں نے ہمیشہ مسائل کا حل تلاش کیا ہے، میں گھر جا رہا ہوں کیوں کہ مجھے گھر بھیج دیا گیا ہے، یہ حالات اور یہ فیصلہ بہت کچھ بتا رہا ہے لیکن کبھی نہیں چاہوں گا کہ انتشار پھیلے۔