- الإعلانات -

جا ننے کے ذوالفقار مرزا کیسے جیتے ؟

کراچی : بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کسی اور نتیجے نے اس قدر دلچسپی پیدنہیں کی جس قدر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی قیادت میں گروپ نے بدین میں انتخابی میدان مار کر پیدا کی جو لاڑکانہ کے بعد پیپلز پارٹی کا مضبوط ترین گڑھ شمار ہوتا تھا۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی واضح کامیابی کے باوجود بدین میں کیوں ناکام ہوئی؟ اس بڑے دھچکے سے نہ صرف پیپلز پارٹی بلکہ ذاتی طورپر پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کیلئے بڑے سوالات ابھرتے ہیں۔ اس سے زیادہ اہم یہ کہ ذوالفقار مرزا کی اس کامیابی کی وجہ کیا بنی؟ پیپلز پارٹی جس کا پنجاب میں تقریباً صفایا ہوگیا ، اسے سندھ میں ”منی بغاوت“ کا سامنا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مخمصہ یہ ہےکہ ایک ایسے وقت دھچکا لگا جب بے نظیر بھٹو کی چھوٹی بیٹی آصفہ نے ٹنڈوالہ یار میں پہلی بار اپنا ووٹ ڈالا اور اسے اپنی ماں کے نام کیا۔ ایسا پہلی بار ہوا کہ بے نظیر بھٹو کے تینوں بچوں کے ووٹ تین مختلف شہروں میں درج ہوئے۔ بلاول کا ووٹ لاڑکانہ اور بختاور کا ووٹ نوب شاہ (بے نظیر آباد) میں درج ہے۔ بعد ازا انتخابات کے منظر نامے میں تحریک انصاف اور مرزا گروپ میں اتحاد دلچسپی کا باعث ہوگا۔ عمران خان ڈاکٹر ذوالفقار مرزا گروپ کی کامیابی کا سن کر اس قدر پر جوش ہوئے کہ انہوں نے فوراً ٹیلی فون اٹھایااور اپنی جانب سے مبارکباد دی۔ دونوں نے آپس میں ممکنہ تعاون کیلئے ملاقات پر اتفاق بھی کیا۔ لیکن عمران خان ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور ان کے خاندان کو تحریک انصاف میں شمولیت کی دعوت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دی نیوزکے صحافی مظہرعباس کی رپورٹ کے مطابق دونوں میں قدر مشترک کیا ہے؟ شاید جارحیت پسندی، زرداری اور ایم کیو ایم مخالف عنصر اور دنوں ہی میڈیا سے تشہیر کےدلدادہ ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے دو مراحل میں پے در پے شکست کے بعد عمران خان کو سندھ میں ذوالفقار مرزا جیسی شخصیت کی ضرورت ہے۔ پہلے سندھ میں سب سے بڑے اپ سیٹ کی وجوہ کا جائزہ لیا جائے۔ (1)ذوالفقار مرزا کی دہائیوں سے بدین پر گرفت اور کارکنوں پر ذاتی اثر و رسوخ (2)پیپلز پارٹی کی بدین میں کمزور قیادت (3)پیپلز پارٹی کے اندر ممکنہ بے وفائی اور کچھ پارٹی رہنماﺅں کی ذوالفقار مرزا کیلئے خاموش حمایت (4)آصف علی زرداری کی اسٹیبلشمنٹ سے کشیدگی کے بعد پاکستان سے طویل غیر حاضری (5)پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزاا ور رکن سندھ اسمبلی حسنین مرزا کا کردار (6)ذوالفقار مرزا کے مقابلے میں جارحانہ مہم چلانے میں پیپلز پارٹی کی ناکامی (7)متحدہ پیپلز پارٹی مخالف ووٹ اپنے حق میں بروئے کار لانے میں ذوالفقار مرزا کامیاب رہے۔ (8)ذوالفقار مرزا کا ایم کیو ایم مخالف موقف جو اندرون سندھ با سانی کام میں لایا جاسکتا ہے۔ (9)حکومت سندھ کے انتظامی کنٹرول کا فقدان جو پولنگ کے دن رینجرز کے ہاتھوں میں تھا۔ (10)مرزا خاندان پیپلز پارٹی کے اندر اور بدین کے ووٹرز کے درمیان ”مظلوم“ بن کر ابھرنا۔گوکہ پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں غیر معمولی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٹھٹھہ کے شیرازیوں، تھرپارکر، عمر کوٹ اور ملحقہ علاقوں میں ارباب کو دھچکا پہنچایا لیکن یہ بدین کے بلدیاتی انتخابات تھے جس نے زرداری کو شدید زک پہنچائی۔ یہ شکست شاید پیپلز پارٹی سندھ اور خصوصاً بدین میں تبدیلیاں لائے۔ کچھ وزراءبھی اپنے قلم دانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ یہ بلاول کیلئے بڑی شکست ہے جو اپنے دورہ بدین کے بعد بہتر نتائج کی توقع کر رہے تھے۔ پیپلز پارٹی کو آئندہ عام انتخابات سے قبل دو سال میں بڑے کام کرنے ہیں۔ پیپلز پارٹی جو پنجاب اور خیبر پختون خوا میں اپنی کھوئی مقبولیت کے حصول کی تگ ودو میں ہے، اسے اب سندھ میں بھی مسائل در پیش ہیں۔ سندھ میں مرزا عنصر پیپلز پارٹی پرکس قدر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ کیا ذوالفقار مرزا بدین میں اپنی بلدیاتی انتخابی کامیابی کو حقیقی سیاسی چیلنج میں تبدیل کر سکتے ہیں اس بارے میں کچھ کہنا تو قبل از وقت ہوگا تاہم ابھرتا سیاسی منظر نامہ پیپلز پارٹی کیلئے کوئی حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کرپشن اور دہشت گردی کے مقدمات میں جیل جاتی ہے تو موجودہ صورتحال میں کسی احتجاجی تحریک کے امکانات بڑے کم ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی کی قیادت بدین میں الجھن پیدا کر کے وہاں اپنی ہار کی خود ذمہ دار ہے۔ اس نے ذوالفقار مرزا سے مصالحت کی کوشش کی اور نہ ہی ان کی اہلیہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اور بیٹے رکن سندھ اسمبلی حسنین مرزا کے خلاف نظم و ضبط کے تحت کوئی کارروائی کی اگر اسی حلقے سے پیپلز پارٹی ہی کے رکن قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی پارٹی قیادت کےخلاف مہم چلا رہے ہوں تو آصف زرداری پارٹی کے دیگررہنماﺅں سے توقعات کیوں رکھتے ہیں؟ فہمیدہ مرزا نے تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا۔ جو انہیں ایسا کرنے سے روک نہیں سکے۔ اس صورتحال نے پارٹی کارکنوں کو الجھن کا شکار کر دیا۔ انہوں نے گھر بیٹھنے یا پھر ذوالفقار مرزا کو ووٹ دینے کو ترجیح دی۔ اس مخصوص انتخاب کے آصف زرداری کیلئے اہم ہونے کی وجوہ ہیں۔ جنہوں نے اپنے اسکول کے زمانے کے دوست کے ہاتھوں اسے ذاتی شکست کے طور پر لیا۔ جس نے اپنے سابق دوست کی کوئی دلیل کو کبھی چیلنج نہیں کیا۔ذوالفقار مرزا کو آصف زرداری سے علیحدگی کے بعد مالی نقصانات بھی اٹھانے پڑے۔ لہٰذا یہ دونوں کے درمیان صرف سیاسی جنگ ہی نہیں تھی۔ اس ذاتی جنگ کی پشت پر اصل حقائق شاید ہمیشہ راز ہی رہیں۔ذوالفقار مرزا جو اپنی ذاتی زندگی میں ہالی وڈ کردار جان ریمبو سے متاثر ہیں ، انہوں نے پیپلز پارٹی کی گزشتہ سندھ حکومت میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے شہرت پائی۔ زرداری ،ذوالفقار مرزا کے مزاج کو جانتے تھے، اس کے باوجود انہوں نے ایم کیو ایم کو دباﺅ میں لینے کیلئے انہیں وزارت داخلہ سونپی لیکن وہ اس دوران کراچی کو ”خانہ جنگی“ کے دہانےپر لے آئے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی مبینہ عسکریت پسندی سے نمٹنے کیلئے لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عزیر بلوچ کو استعمال کیا۔ اسلحے کے ڈیڑھ لاکھ لائسنس جاری کئے۔ زرداری کو آگ سے کھیلنے سے روکنے کی کوشش ایک ہی رہنما یعنی لیاری سے رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے کی لیکن ان کے دلائل کو رد کر دیا گیا۔ اس سے قبل مہاجروں اور بلوچوں میں کوئی تنازع نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کو اپنے گڑھ لیاری میں اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑا۔ لیاری عزیر بلوچ اور اس کے گروپ کے ہاتھوں میں چلا گیا اور پیپلز پارٹی آج تک اس علاقے میں سنبھل نہیں سکی۔ جب تک ذوالفقار مرزا کو روکا اور استعفیٰ مانگا جاتا وہ میڈیا کے ڈارلنگ بن چکے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جس انداز سے انہیں استعمال کیا گیا، ذوالفقار مرزا اس سے خوش نہیں تھے۔ بعد ازاں انہیں ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا گیا۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ذوالفقار مرزا محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پرانے دوست نے ان کے سیاسی کیریئر کو نقصان پہنچایا۔ 2014میں آصف زرداری کراچی میں ذوالفقار مرزا کی رہائش گاہ گئے۔ ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزا بھی ملاقات میں موجود رہیں لیکن بات بن نہیں سکی۔ پھر مالی بحران آیا جس کا الزام ذوالفقار مرزا اپنے ”پرانے دوست“ کو دیتے ہیں۔ ان کی شوگر مل دیوالیہ ہونے کو آگئی۔ جب ڈاکٹر فہمیدہ مرزا بیرون ملک علاج کے بعد واپس ا?ئیں تو ا?صف زرداری مزاج پرسی کیلئے گئے۔ گوکہ کشیدگی کسی حد تک کم ہوئی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو آصف زرداری کی سیاست کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ ایک طرف تو لیاری مکمل طور ر غیر سیاسی ہوا تو دوسری جانب مضبو ط گڑھ بدین پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ پیپلز پارٹی کو لیاری میں اپنی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نبیل گبول پیپلز پارٹی چھوڑ کر ایم کیو ایم میں گئے اور پھر وہاں سے بھی نکل گئے۔ ان کا سیاسی کیریئر رک گیا۔ انہوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ انہیں اب آگے کہاں جانا ہے۔ بظاہر بدین میں شکست زرداری اور پیپلز پارٹی کا علامتی نقصان ہے لیکن اگر ذوالفقار مرزا نے اپنے پتے اچھی طرح کھیلے تو وہ پیپلز پارٹی کی صفوں میں دراڑیں ڈال سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی پارٹی میں فریال تالپور کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوش نہیں ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے بچوں خصوصاً بلاول (جو اس وقت پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں) کیلئے مشکل یہ ہے کہ اب وہ پیپلز پارٹی میں اصلاحیت کر سکتے اور بدین واپس لے سکتے ہیں؟