- الإعلانات -

ایران کی جانب سےپنجگور میں چار مارٹر گولے داغے گئے ہیں

ایران کی جانب سے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں چار مارٹر گولے داغے گئے ہیں پاکستان کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں چار مارٹر گولے داغے گئے ہیں جبکہ ایک اور واقے میں نامعلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا۔ جس میں دو اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔سنیچر کی شام ایران کی جانب سے فائر کیے گئے مارٹر گولے پنجگور کے علاقے پروم میں گرے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے چار مارٹر گولے فائر کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ مارٹر گولے زوردار دھماکوں کے ساتھ پھٹے۔ تاہم ویران علاقے میں گرنے کے باعث ان سے کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔‘بلوچستان کے ضلع پنجگور کا شمار بلوچستان کے ان پانچ اضلاع میں ہوتا ہے جن کی سرحدیں مغرب میں ایران سے ملتی ہیں۔اس سے قبل بھی پنجگور اور دیگر اضلاع کے سرحدی علاقوں میں ایران کی جانب سے راکٹ اور مارٹر کے شیل فائر ہوتے رہے ہیں۔ضلع پنجگور ہی کے علاقے پروم میں سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو بم حملے کا نشانہ بھی بنایا گیا۔کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے سڑک پر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔ یہ مواد ا±س وقت زوردار دھماکے سے پھٹ گیا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑیاں وہاں سے گزر رہی تھیں۔ذرائع نے بتایا کہ دھماکے سے ایک گاڑی کو نقصان پہنچا جبکہ دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔اس واقعے کی ذمہ داری کالعد م عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی ہے۔ادھر ضلع کوہلو میں گذشتہ شب نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے بجلی کے تین کھمبوں کو اڑا دیا۔کوہلو میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے ضلع کے علاقے ماوند میں بجلی کے تین کھمبوں کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ایک کھمبا مکمل طور پر تباہ ہوا جبکہ دو کو جزوی نقصان پہنچا اور بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے