- الإعلانات -

ملک میں سودی نظام کے خاتمے کا بل قومی اسمبلی میں پیش

پاکستان کی اہم مذہبی و سیاسی جماعت جماعت اسلامی نے ملک میں سودی نظام کے خاتمے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کرنے پر سپیکر ایاز صادق نے بل بحث کیلئے قائمہ کمیٹی کو بھجوادیا۔منگل کو سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو جماعت اسلامی کے رہنماطارق عبداللہ نے سودی نظام کے خاتمے کا بل 2015ءایوان میں پیش کیا۔کابل کے متن میں سودی نظام کے خاتمے کیلئے قوانین میں 26ترامیم کی تجاویز دی گئی ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق جمع ہونے کے بعد تحریک انصاف کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کرنے کی اجازت طلب کی جس پر سپیکر اسمبلی نے سخت ناراضی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی جماعت کے اراکین بل جمع کرانے سے پہلے ہی باہر جاکر میرے خلاف باتیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آپ کے اراکین 6چھ مہینے تک غیر حاضر رہتے ہیں ، قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرتے اورالزام سپیکر کو دیتے ہیں۔سپیکر ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اراکین سے کہیں کہ ایوان میں آکر کام کریں تو کام ہوگا ، اب باتیں بنانا چھوڑ دیں ، ڈاکٹر صاحبہ آپ کو جاناہے اس لیے نوٹس پیش کرنے کی اجازت دیتا ہوں۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر زبردستی کی بات کی تو قانون کے مطابق چلوں گا جبکہ پیار سے جان بھی دے دوں گا ، ان کا کہنا تھا کہ کل میرے بارے میں حقائق کے منافی باتیں کی گئیں۔واضح رہے کہ اس سے قبل سودی نظام کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی تاہم عدالت نے یہ کہتے ہوئے اسے خارج کردیا تھا کہ جسے سود نہیں دینا وہ نہ دے ، جو دے گااسے اللہ پوچھے گا۔