- الإعلانات -

لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کی قبل ازوقت ریٹائرمنٹ

پاکستان کی اہم ترین خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کے موجودہ صدر لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے اچانک قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے لی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے اپنا استعفیٰ پاک فوج کے سربراہ جنر قمر جاوید باجوہ کو پیش کیا جو اب تک منظور نہیں ہو سکا۔

اپنے استعفے میں لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی وجہ نجی معاملات کو قرار دیا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب بھی پاک فوج کو ان کی خدمات درکار ہوں گی تو وہ حاضر ہوں گے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کی ریٹائرمنٹ آئندہ برس اکتوبر میں ہونا تھی اور وہ اس وقت نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔

اپنے استعفے میں انہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان کی عظیم آرمی کے ساتھ ان کا 35 سالہ کیریئر باعث فخر ہے جبکہ وہ اعتماد کے ساتھ 9 اکتوبر 2017 کو ریٹائر ہورہے ہیں۔

رضوان اختر نے آرمی میں اپنی سروس کے دوران رہنمائی اور سپورٹ فراہم کرنے پر اپنے سینئر، ساتھیوں اور عملے سمیت گھر والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اُن سب لوگوں کا بھی شکر گزار ہوں جن کی مدد سے میں آج اس مقام پر پہنچا۔

رضوان اختر نے کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے گریجویٹ کیا جبکہ وار کورس کے لیے وہ امریکا بھی گئے۔

لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں انفینٹری بریگیڈ ڈویژن کی کمانڈ کی جبکہ پشاور کور میں پلاننگ افسر کے عہدے پر بھی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

آئی ایس آئی کا سربراہ بننے سے قبل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو 2012 میں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) رینجرز سندھ تعینات کیا گیا اور 2013 میں ان کی قیادت میں کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا جس میں انہوں نے مؤثر کردار ادا کیا۔

لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کو 7 نومبر 2014 کو آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کردیا گیا جبکہ 11 دسمبر 2016 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آرمی کے اہم عہدوں پر تبدیلیاں کرتے ہوئے انہیں خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا کر این ڈی یو کا صدر تعینات کر دیا۔

لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کو سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کافی قریبی تصور کیا جاتا تھا۔